یادوں سے خالی دل کی یہ کن وادیوں کے بیچ

Mah Jabeen Najm

یادوں سے خالی دل کی یہ کن وادیوں کے بیچ

تنہا کھڑی ہوئی ہوں میں تنہائیوں کے بیچ

ہونٹوں پہ میرے حرف شکایت کہاں رہا

حیران ہو رہی ہوں میں خاموشیوں کے بیچ

بچوں نے اس کے رنگ بھرے پر کتر دئے

تتلی اک اڑ رہی تھی جو رعنائیوں کے بیچ

مشکل لگی جو زیست گزارے چلے گئے

دامن خرد کا تھام کے نادانیوں کے بیچ

دنیا کو کیا خبر کہ ہے کتنا عزیز تر

احساس جو ہوا تھا پشیمانیوں کے بیچ

لو پھر سے تیز ہو گئی لو شمع یاد کی

پھر نجمؔ مضطرب سی ہے پرچھائیوں کے بیچ