وہ غم ملا کہ اس کو سمندر بنا دیا

Tabassum Naz

وہ غم ملا کہ اس کو سمندر بنا دیا

پتھر سی آرزؤں کو گوہر بنا دیا

یہ ماجرا تو بسنے بسانے کی بات ہے

اک دل تھا میرے پاس ترا گھر بنا دیا

پھر کارواں کے لٹنے کا شکوہ نہیں کریں

جب رہزنوں کو آپ نے رہبر بنا دیا

ایسے شفیق لوگ بھی ہیں اس زمین پر

بس اک نگہ کی اور مقدر بنا دیا

اس ہم سفر کو کیسے بھلاؤں گی عمر بھر

جس نے سفر کو نازؔ حسیں تر بنا دیا