وہ غم ملا کہ اس کو سمندر بنا دیا
Tabassum Nazوہ غم ملا کہ اس کو سمندر بنا دیا
پتھر سی آرزؤں کو گوہر بنا دیا
یہ ماجرا تو بسنے بسانے کی بات ہے
اک دل تھا میرے پاس ترا گھر بنا دیا
پھر کارواں کے لٹنے کا شکوہ نہیں کریں
جب رہزنوں کو آپ نے رہبر بنا دیا
ایسے شفیق لوگ بھی ہیں اس زمین پر
بس اک نگہ کی اور مقدر بنا دیا
اس ہم سفر کو کیسے بھلاؤں گی عمر بھر
جس نے سفر کو نازؔ حسیں تر بنا دیا