Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شبکوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شبIsmail Meeruthi (1844–1917)
- منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیںہوں ریل پر سوار تو دام و درم نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہوا چلیIsmail Meeruthi (1844–1917)
- اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئےگو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حاصل ہو کچھ معاش یہ محنت کی بات ہےلیکن سرور قلب یہ قسمت کی بات ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کےہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑےاب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رنگ شراب سے مری نیت بدل گئیواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سچ ہے کسی کی شان یہ اے نازنیں نہیںتو ہر جگہ ہے جلوہ گر اور پھر کہیں نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہیلیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کیا جرم ہے یہ حال تو جانے خدائے موتہر نفس کے لئے ہے مگر یاں سزائے موتAkbar Allahabadi (1846–1921)
- میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشرمجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- آم نامہAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سےلیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالانساں کرے اگر نہ تری چاہ کیا کرےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کامبندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کامShad Azimabadi (1846–1927)
- تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کاخالق بھلا کرے تری ترچھی نگاہ کاShad Azimabadi (1846–1927)
- کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تکظالم ہیں آپ کی ہے ادا سر سے پاؤں تکShad Azimabadi (1846–1927)
- ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرضجب کچھ غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرضShad Azimabadi (1846–1927)
- اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھتیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیاShad Azimabadi (1846–1927)
- جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھیمحسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کرShad Azimabadi (1846–1927)
- غنچوں کے مسکرانے پہ کہتے ہیں ہنس کے پھولاپنا کرو خیال ہماری تو کٹ گئیShad Azimabadi (1846–1927)
- کہتے ہیں اہل ہوش جب افسانہ آپ کاہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کاShad Azimabadi (1846–1927)
- اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہواکمبخت چھوٹتا ہے کہیں دل لگا ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
- درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیادل سے غنی ہوں پاس مرے زر نہیں تو کیاKaifi Kakorvi (1852–1928)
- یہ بھی ہے کوئی بات کہ دل بد گماں نہ ہومیرا تو ہو عدو کا مگر امتحاں نہ ہوKaifi Kakorvi (1852–1928)
- آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کیروشن ہے اب تو سینے میں بھٹی شراب کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیادیکھا کسے کہ شمع سے پروانہ ہو گیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لاطاق حرم سے شیخ وہ بوتل اٹھا تو لاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کاکل بام پر تھے آج ہے قصد آسمان کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بالائے بام غیر ہے میں آستان پرچاہیں جسے چڑھائیں حضور آسمان پرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسےبھولا ہوا سا خواب ہے دنیا کہیں جسےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سےکہئے تو بات رات کی کہہ دوں رقیب سےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلفپیارا ہے دل تو ناز بھی دل کے اٹھائے زلفRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کافر بتوں کے نام ہوں کیوں کر تمام حفظاتنے خدا کہ ہو نہ سکیں جن کے نام حفظRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کہنے بھی کچھ نہ پائے تھے آہ رسا سے ہمسننا پڑا کہ آج لڑیں گے ہوا سے ہمRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسندپہلو سے میرے جائے دل آرزو پسندRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیےمیں کیوں کہوں زبان سے خود جان جائیےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہویہ سن کے کس ادا سے کہا رات بھی تو ہوRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام راتجاگیں تمام رات جگائیں تمام راتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریںپائیں خدا سے ہم جو بتوں سے دغا کریںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھاتم ہنس پڑے یہ کون سا موقع ہنسی کا تھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کیراتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہےوہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
- یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھNazm Tabatabai (1854–1933)
- اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھےاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھےBekhud Badayuni (1857–1912)
- زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہےاس نے سنا نہیں کہ خدا بے نیاز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھےمرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھےSafi Lakhnavi (1862–1950)
- ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہےکس حسن کا ہے حسن ادا کس ادا کی ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
- تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہواجو کچھ ہوا وہ عشق کی امداد سے ہواBekhud Dehlvi (1863–1955)