Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شبکوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شبIsmail Meeruthi (1844–1917)
  2. منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیںہوں ریل پر سوار تو دام و درم نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  3. ہوا چلیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  4. اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئےگو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  5. حاصل ہو کچھ معاش یہ محنت کی بات ہےلیکن سرور قلب یہ قسمت کی بات ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  6. حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کےہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  7. دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑےاب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  8. رنگ شراب سے مری نیت بدل گئیواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  9. سچ ہے کسی کی شان یہ اے نازنیں نہیںتو ہر جگہ ہے جلوہ گر اور پھر کہیں نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  10. صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہیلیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  11. کیا جرم ہے یہ حال تو جانے خدائے موتہر نفس کے لئے ہے مگر یاں سزائے موتAkbar Allahabadi (1846–1921)
  12. میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشرمجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  13. آم نامہAkbar Allahabadi (1846–1921)
  14. اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سےلیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  15. یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالانساں کرے اگر نہ تری چاہ کیا کرےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  16. اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کامبندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کامShad Azimabadi (1846–1927)
  17. تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کاخالق بھلا کرے تری ترچھی نگاہ کاShad Azimabadi (1846–1927)
  18. کیوں ہو بہانہ جو نہ قضا سر سے پاؤں تکظالم ہیں آپ کی ہے ادا سر سے پاؤں تکShad Azimabadi (1846–1927)
  19. ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرضجب کچھ غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرضShad Azimabadi (1846–1927)
  20. اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھتیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیاShad Azimabadi (1846–1927)
  21. جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھیمحسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کرShad Azimabadi (1846–1927)
  22. غنچوں کے مسکرانے پہ کہتے ہیں ہنس کے پھولاپنا کرو خیال ہماری تو کٹ گئیShad Azimabadi (1846–1927)
  23. کہتے ہیں اہل ہوش جب افسانہ آپ کاہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کاShad Azimabadi (1846–1927)
  24. اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہواکمبخت چھوٹتا ہے کہیں دل لگا ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
  25. درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیادل سے غنی ہوں پاس مرے زر نہیں تو کیاKaifi Kakorvi (1852–1928)
  26. یہ بھی ہے کوئی بات کہ دل بد گماں نہ ہومیرا تو ہو عدو کا مگر امتحاں نہ ہوKaifi Kakorvi (1852–1928)
  27. آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کیروشن ہے اب تو سینے میں بھٹی شراب کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  28. آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیادیکھا کسے کہ شمع سے پروانہ ہو گیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  29. اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لاطاق حرم سے شیخ وہ بوتل اٹھا تو لاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  30. اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کاکل بام پر تھے آج ہے قصد آسمان کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  31. بالائے بام غیر ہے میں آستان پرچاہیں جسے چڑھائیں حضور آسمان پرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  32. بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسےبھولا ہوا سا خواب ہے دنیا کہیں جسےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  33. پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سےکہئے تو بات رات کی کہہ دوں رقیب سےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  34. روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلفپیارا ہے دل تو ناز بھی دل کے اٹھائے زلفRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  35. کافر بتوں کے نام ہوں کیوں کر تمام حفظاتنے خدا کہ ہو نہ سکیں جن کے نام حفظRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  36. کہنے بھی کچھ نہ پائے تھے آہ رسا سے ہمسننا پڑا کہ آج لڑیں گے ہوا سے ہمRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  37. مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسندپہلو سے میرے جائے دل آرزو پسندRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  38. مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیےمیں کیوں کہوں زبان سے خود جان جائیےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  39. وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہویہ سن کے کس ادا سے کہا رات بھی تو ہوRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  40. ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام راتجاگیں تمام رات جگائیں تمام راتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  41. ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریںپائیں خدا سے ہم جو بتوں سے دغا کریںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  42. ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھاتم ہنس پڑے یہ کون سا موقع ہنسی کا تھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  43. یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کیراتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  44. تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہےوہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  45. یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھNazm Tabatabai (1854–1933)
  46. اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھےاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھےBekhud Badayuni (1857–1912)
  47. زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہےاس نے سنا نہیں کہ خدا بے نیاز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  48. پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھےمرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھےSafi Lakhnavi (1862–1950)
  49. ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہےکس حسن کا ہے حسن ادا کس ادا کی ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  50. تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہواجو کچھ ہوا وہ عشق کی امداد سے ہواBekhud Dehlvi (1863–1955)