کیا جرم ہے یہ حال تو جانے خدائے موت

Akbar Allahabadi (1846–1921)

کیا جرم ہے یہ حال تو جانے خدائے موت

ہر نفس کے لئے ہے مگر یاں سزائے موت

کہتی ہے عقل موت یہ ہے بحر زندگی

وہ زندگی کہ جو نہیں ہوگی برائے موت

دنیا کی زندگی تو ہے اک جزو موت ہی

اس کا نتیجہ ہو نہیں سکتا سوائے موت

سانچہ یہ زندگی ہے فقط روح کے لئے

جب ڈھل چکے تو سانچے کو جائز ہے آئے موت

کیسی ڈھلی اسی کا ہے لازم ہمیں خیال

نعمت بنائیں موت کو کیوں ہو جفائے موت

ہوتا ہے غم ضرور مگر کچھ ہے مصلحت

اللہ کر دے طبع کو راز آشنائے موت