Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھہجوم رنگ سے اندازۂ بہار نہ کرAbid Ali Abid (1906–1971)
- یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہوادا شناس تو ہے آنکھ خونچکاں بھی تو ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
- بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئےزمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہواکسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہواLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیںجو سوچیے کہ خفا ہیں تو وہ خفا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھیہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھیSaba Akbarabadi (1908–1991)
- گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھخرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہوبہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیںیہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیںیہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بتائے کون کسی کو نشان منزل زیستابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدودصلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- سزا کے جھیلنے والے یہ سوچنا ہے گناہکوئی قصور بھی تجھ سے کبھی ہوا کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
- ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملامگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملاNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہےزمانے بھر کا تلون ترے شباب میں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئےشعور چاہئے پھولوں کو آرزو کے لئےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہےشب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیںوہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نامبکھر گیا جو کبھی رنگ پیرہن سر بامFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دموصال یار فقط آرزو کی بات نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیںمرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملےملے جو لوگ وہ اپنے نشے میں مست ملےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئیگھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- فغان درد میں بھی درد کی خلش ہی نہیںدلوں میں آگ لگی ہے مگر تپش ہی نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہےخرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملےکسی کو خاک سکوں مرگ ناگہاں سے ملےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہکہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- کر اپنی بات کہ پیارے کسی کی بات سے کیالیا ہے کام بتا تو نے اس حیات سے کیاUmar Ansari (1912–2005)
- مسافروں سے محبت کی بات کر لیکنمسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کرUmar Ansari (1912–2005)
- لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکےلگی جو آگ جگر میں اسے بجھا نہ سکےAali Gopalpuri (1912–1980)
- شکست شوق کو تکمیل آرزو کہیےجو تشنگی ہو تو پیمانہ و سبو کہیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شفق کے رنگ میں ہے قتل آفتاب کا رنگافق کے دل میں ہے خنجر لہو لہان ہے شامAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیاتہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہمیں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریبتصورات کہن کے قدیم بت خانےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگجھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگEjaz Siddiqi (1913–1978)
- بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
- ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہےEhsan Danish (1914–1982)
- کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئیچراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئیEhsan Danish (1914–1982)
- مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھاوگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھاEhsan Danish (1914–1982)
- وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئےEhsan Danish (1914–1982)
- تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہایہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- طلوع صبح ہے نظریں اٹھا کے دیکھ ذراشکست ظلمت شب مسکرا کے دیکھ ذراJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاںکسی پہ زور ہمارا کہاں چلے ہے میاںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگےیہ شہر مجھ کو تو یارو کوئی بھنور سا لگےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیالگی جو ٹھیس تو شیشے پہ بال آ ہی گیاBahzad Fatami (b. 1914)