Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. گلوں کی خوں شدگی کو شگفتگی نہ سمجھہجوم رنگ سے اندازۂ بہار نہ کرAbid Ali Abid (1906–1971)
  2. یہ عرض شوق ہے آرائش بیاں بھی تو ہوادا شناس تو ہے آنکھ خونچکاں بھی تو ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
  3. بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئےزمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  4. جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہواکسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہواLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  5. جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیںجو سوچیے کہ خفا ہیں تو وہ خفا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  6. رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھیہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  7. گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھخرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  8. خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہوبہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہوHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  9. نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیںیہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  10. یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیںیہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  11. بتائے کون کسی کو نشان منزل زیستابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  12. یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدودصلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  13. سزا کے جھیلنے والے یہ سوچنا ہے گناہکوئی قصور بھی تجھ سے کبھی ہوا کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
  14. ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملامگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  15. ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہےزمانے بھر کا تلون ترے شباب میں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  16. وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئےشعور چاہئے پھولوں کو آرزو کے لئےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
  17. رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہےشب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  18. گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  19. نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  20. وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیںوہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  21. سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نامبکھر گیا جو کبھی رنگ پیرہن سر بامFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  22. یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  23. یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دموصال یار فقط آرزو کی بات نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  24. مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیںمرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  25. خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملےملے جو لوگ وہ اپنے نشے میں مست ملےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  26. شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئیگھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  27. فغان درد میں بھی درد کی خلش ہی نہیںدلوں میں آگ لگی ہے مگر تپش ہی نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  28. نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہےخرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  29. گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملےکسی کو خاک سکوں مرگ ناگہاں سے ملےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  30. تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہکہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  31. کر اپنی بات کہ پیارے کسی کی بات سے کیالیا ہے کام بتا تو نے اس حیات سے کیاUmar Ansari (1912–2005)
  32. مسافروں سے محبت کی بات کر لیکنمسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کرUmar Ansari (1912–2005)
  33. لگا کے دل کبھی آنسو بھی ہم بہا نہ سکےلگی جو آگ جگر میں اسے بجھا نہ سکےAali Gopalpuri (1912–1980)
  34. شکست شوق کو تکمیل آرزو کہیےجو تشنگی ہو تو پیمانہ و سبو کہیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  35. شفق کے رنگ میں ہے قتل آفتاب کا رنگافق کے دل میں ہے خنجر لہو لہان ہے شامAli Sardar Jafri (1913–2000)
  36. یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیاتہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  37. تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہمیں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  38. دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریبتصورات کہن کے قدیم بت خانےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  39. نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگجھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگEjaz Siddiqi (1913–1978)
  40. بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
  41. ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہےEhsan Danish (1914–1982)
  42. کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئیچراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئیEhsan Danish (1914–1982)
  43. مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھاوگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھاEhsan Danish (1914–1982)
  44. وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئےEhsan Danish (1914–1982)
  45. تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہایہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  46. طلوع صبح ہے نظریں اٹھا کے دیکھ ذراشکست ظلمت شب مسکرا کے دیکھ ذراJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  47. وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاںکسی پہ زور ہمارا کہاں چلے ہے میاںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  48. ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  49. ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگےیہ شہر مجھ کو تو یارو کوئی بھنور سا لگےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  50. ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیالگی جو ٹھیس تو شیشے پہ بال آ ہی گیاBahzad Fatami (b. 1914)