ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا

Bahzad Fatami (b. 1914)

ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا

لگی جو ٹھیس تو شیشے پہ بال آ ہی گیا

نہیں جو واقف تہذیب مے کدہ واعظ

زباں پہ ذکر حرام و حلال آ ہی گیا

پکڑ لیا مرے ہاتھوں کو اے خودی تو نے

ترا خیال جو وقت سوال آ ہی گیا

ہر ایک لمحہ اسی انتظار میں گزرا

خدا کا شکر پیام وصال آ ہی گیا

یقیں تھا وعدۂ فردا پہ آپ کے لیکن

گزشتہ وعدوں کا دل میں خیال آ ہی گیا

کچھ ایسا وقت بھی آیا مری خموشی پر

زباں سے موقعۂ اظہار حال آ ہی گیا

ہزار چاہا تھا میں نے عذاب سے بچنا

تعلقات کا سر پر وبال آ ہی گیا

یہ مانتا ہوں کہ بہزادؔ کچھ نہیں لیکن

تمہاری بزم میں یہ خستہ حال آ ہی گیا