Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔیہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعدAkbar Allahabadi (1846–1921)
  2. کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوںملے بھرا ہوا ساغر تو ڈگڈگا کے پیوںShad Azimabadi (1846–1927)
  3. بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہوتو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیےShad Azimabadi (1846–1927)
  4. حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھےجب آئے آپ گئے چوریاں لگا کے مجھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  5. خدا کرے رہے جاری پیام یار نثارکہ تیرے بعد یہ ہے تیری یادگار نثارRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  6. ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلےنہ پہنچے آج بھی گھر تک مرے وہ کل کے چلےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  7. کسی سے وصل میں سنتے ہی جان سوکھ گئیچلو ہٹو بھی ہماری زبان سوکھ گئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  8. نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیاگندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  9. کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیںمجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  10. پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہواحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہواBekhud Badayuni (1857–1912)
  11. اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھاتمہارے وصل کا تم سے تو خواست گار نہ تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  12. بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھاغشی کو آپ نے سمجھا تھا خواب خواب نہ تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  13. جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھےسکھا رہے ہیں وہ گویا چلن وفا کے مجھےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  14. عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیںنظر چرا کے ہم ان کی نظر کو دیکھتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  15. ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنےوہ عشوہ سنج ہے فرخ لقا بنے نہ بنےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  16. اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھےکہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  17. دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوابتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہواMuztar Khairabadi (1865–1927)
  18. گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لویہ بند بند جدا ہیں قبا کے دیکھ نہ لوMuztar Khairabadi (1865–1927)
  19. ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہینگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  20. کہاں ہم اور کہاں اب شراب خانۂ عشقنہ وہ دماغ نہ وہ دل نہ وہ زمانۂ عشقJaleel Manikpuri (1866–1946)
  21. نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیںوہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  22. وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہےقمر بھی ہے مرے پہلو میں آفتاب بھی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  23. یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھےکہ آپ میں نہیں رہتا ہے کوئی پا کے مجھےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  24. ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظنہ نبھنے دے گا دل زار و بے قرار لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  25. کبھی نہ جائے گا عاشق سے دیکھ بھال کا روگپلاؤ لاکھ اسے بد مزہ دوائے فراقParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  26. وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میںحریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
  27. اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکےکہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  28. حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھاوفور عیش میں اندیشۂ مآل نہ تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  29. خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملاہمیں یہ دل نہ ملا جان کا عذاب ملاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  30. شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھےکسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  31. کوئی جہاں میں نہ یا رب ہو مبتلائے فراقکسی کی جان کی دشمن نہ ہو بلائے فراقHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  32. کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھاوہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  33. وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہےبغل میں چاند ہے اور آفتاب ہاتھ میں ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  34. قسم نباہ کی کھائی تھی عمر بھر کے لیےابھی سے آنکھ چراتے ہو اک نظر کے لیےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  35. بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھےبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  36. پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوںمیں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  37. گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیابہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  38. مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاںہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  39. نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  40. ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیےکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  41. نگاہ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرےHasrat Mohani (1875–1951)
  42. ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرےترا کرم ہے جسے جیسے سرفراز کرےBedam Warsi (1876–1936)
  43. کُشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرےنیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرےAllama Iqbal (1877–1938)
  44. عشر ت امروزAllama Iqbal (1877–1938)
  45. پھول کا تحفہ عطا ہونے پرAllama Iqbal (1877–1938)
  46. عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میںAllama Iqbal (1877–1938)
  47. میں اورتوAllama Iqbal (1877–1938)
  48. ایک خط کے جواب میںAllama Iqbal (1877–1938)
  49. خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیںجو ناز ہو بھی تو بے لذّتِ نیاز نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  50. خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتُو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیںAllama Iqbal (1877–1938)