Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔیہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعدAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوںملے بھرا ہوا ساغر تو ڈگڈگا کے پیوںShad Azimabadi (1846–1927)
- بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہوتو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیےShad Azimabadi (1846–1927)
- حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھےجب آئے آپ گئے چوریاں لگا کے مجھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- خدا کرے رہے جاری پیام یار نثارکہ تیرے بعد یہ ہے تیری یادگار نثارRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلےنہ پہنچے آج بھی گھر تک مرے وہ کل کے چلےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کسی سے وصل میں سنتے ہی جان سوکھ گئیچلو ہٹو بھی ہماری زبان سوکھ گئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیاگندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیںمجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
- پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہواحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہواBekhud Badayuni (1857–1912)
- اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھاتمہارے وصل کا تم سے تو خواست گار نہ تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھاغشی کو آپ نے سمجھا تھا خواب خواب نہ تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھےسکھا رہے ہیں وہ گویا چلن وفا کے مجھےBekhud Dehlvi (1863–1955)
- عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیںنظر چرا کے ہم ان کی نظر کو دیکھتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنےوہ عشوہ سنج ہے فرخ لقا بنے نہ بنےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھےکہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوابتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہواMuztar Khairabadi (1865–1927)
- گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لویہ بند بند جدا ہیں قبا کے دیکھ نہ لوMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہینگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- کہاں ہم اور کہاں اب شراب خانۂ عشقنہ وہ دماغ نہ وہ دل نہ وہ زمانۂ عشقJaleel Manikpuri (1866–1946)
- نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیںوہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہےقمر بھی ہے مرے پہلو میں آفتاب بھی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھےکہ آپ میں نہیں رہتا ہے کوئی پا کے مجھےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظنہ نبھنے دے گا دل زار و بے قرار لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کبھی نہ جائے گا عاشق سے دیکھ بھال کا روگپلاؤ لاکھ اسے بد مزہ دوائے فراقParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میںحریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
- اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکےکہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھاوفور عیش میں اندیشۂ مآل نہ تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملاہمیں یہ دل نہ ملا جان کا عذاب ملاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھےکسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کوئی جہاں میں نہ یا رب ہو مبتلائے فراقکسی کی جان کی دشمن نہ ہو بلائے فراقHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھاوہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہےبغل میں چاند ہے اور آفتاب ہاتھ میں ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- قسم نباہ کی کھائی تھی عمر بھر کے لیےابھی سے آنکھ چراتے ہو اک نظر کے لیےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھےبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوںمیں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیابہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاںہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیےکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نگاہ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرےHasrat Mohani (1875–1951)
- ہلاک تیغ جفا یا شہید ناز کرےترا کرم ہے جسے جیسے سرفراز کرےBedam Warsi (1876–1936)
- کُشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرےنیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرےAllama Iqbal (1877–1938)
- عشر ت امروزAllama Iqbal (1877–1938)
- پھول کا تحفہ عطا ہونے پرAllama Iqbal (1877–1938)
- عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میںAllama Iqbal (1877–1938)
- میں اورتوAllama Iqbal (1877–1938)
- ایک خط کے جواب میںAllama Iqbal (1877–1938)
- خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیںجو ناز ہو بھی تو بے لذّتِ نیاز نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
- خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتُو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیںAllama Iqbal (1877–1938)