Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگیچلی تھی برچھی کسی پر کسی کے آن لگیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیےکہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسماں کے لیےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملابہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدمجہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آبادMirza Ghalib (1797–1869)
- رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمعہوئی ہے آتشِ گُل آبِ زندگانیِ شمعMirza Ghalib (1797–1869)
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجاۓ گی جواب کے ساتھMirza Ghalib (1797–1869)
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دےولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دےMirza Ghalib (1797–1869)
- دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیےہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیےMirza Ghalib (1797–1869)
- کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟Mirza Ghalib (1797–1869)
- نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئےMirza Ghalib (1797–1869)
- بہ مہرِ نامہ جو بوسہ گلِ پیام رہاہمارا کام ہوا اور تمھارا نام رہاMirza Ghalib (1797–1869)
- کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیںانھیں ہنساکے رلانا بھی کوئی بات نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھMirza Ghalib (1797–1869)
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لےجہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہMirza Ghalib (1797–1869)
- مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاکرہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برسMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگینہ ہائے ہائے میں تالو سے شب زبان لگیMomin Khan Momin (1800–1852)
- اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلےستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلےMir Anees (1803–1874)
- اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروشطلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروشMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیےنہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکامال نیک ہو جس کا وہ کام ہو نہ سکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- بغیر یار گوارا نہیں کباب شرابگزک ہے داغ مجھے اور خون ناب شرابImdad Ali Bahr (1810–1878)
- خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئےکسی طرف نہ جھکا سر کچھ ایسے مست ہوئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیںکوئی مرے کہ جیے کچھ انہیں خیال نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوابرنگ سبزۂ بیگانہ پائمال ہواPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جو دن کو نکلو تو خورشید گرد سر گھومےچلو جو شب کو تو قدموں پہ ماہتاب گرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- بہار آئے عنادل نے مل خروش کیابدن میں خوں نے صراحی میں مے نے جوش کیاBal Mukund Besabr (1812–1885)
- بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرےہزار شکر کہ جیتے خدا کے گھر سے پھرےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شرابتو چشم جام سے اے شیخ دیکھ سوئے شرابMunir Shikohabadi (1814–1880)
- عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقتوہ دوپہر کہ جو مخصوص ہے زوال کا وقتHatim Ali Mehr (1815–1879)
- یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا و شاہ میں ہےوگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہےGeorge Puech Shor (1823–1894)
- وہ انتہا کے ہیں نازک میں سخت جاں ہوں کمالعجب طرح کی مصیبت پڑی ہے خنجر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہواوہ بت وفا پہ نہ آیا میں بے وفا نہ ہواAmeer Minai (1829–1900)
- کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھاتو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھاAmeer Minai (1829–1900)
- میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہےزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہےAmeer Minai (1829–1900)
- کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہےخدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئےAmeer Minai (1829–1900)
- مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہایہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیںAmeer Minai (1829–1900)
- بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملےفقیر ہیں کوئی چلو خدا کی راہ ملےDagh Dehlvi (1831–1905)
- غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیاتمام رات قیامت کا انتظار کیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھےجواب دینے لگی طاقت سوال مجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
- بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہوہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیےDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملاملا وہ غم کدہ جس میں چراغ بھی نہ ملاJalal Lakhnavi (1832–1909)
- تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیںتری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہواکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
- گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دنAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مسوں کے سامنے کیا مذہبی بہانہ چلےچلیں گے ہم بھی اسی رخ جدھر زمانہ چلےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیںیہ سچ بھی ہے کہ مزا بے یقیں تو کچھ بھی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)