Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگیچلی تھی برچھی کسی پر کسی کے آن لگیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  2. نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیےکہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسماں کے لیےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  3. ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملابہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  4. ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدمجہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آبادMirza Ghalib (1797–1869)
  5. رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمعہوئی ہے آتشِ گُل آبِ زندگانیِ شمعMirza Ghalib (1797–1869)
  6. یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  7. نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  8. مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  9. نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجاۓ گی جواب کے ساتھMirza Ghalib (1797–1869)
  10. وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دےولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دےMirza Ghalib (1797–1869)
  11. دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیےہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیےMirza Ghalib (1797–1869)
  12. کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟Mirza Ghalib (1797–1869)
  13. نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئےMirza Ghalib (1797–1869)
  14. بہ مہرِ نامہ جو بوسہ گلِ پیام رہاہمارا کام ہوا اور تمھارا نام رہاMirza Ghalib (1797–1869)
  15. کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیںانھیں ہنساکے رلانا بھی کوئی بات نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  16. نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھMirza Ghalib (1797–1869)
  17. سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لےجہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  18. گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہMirza Ghalib (1797–1869)
  19. مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاکرہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برسMirza Ghalib (1797–1869)
  20. نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگینہ ہائے ہائے میں تالو سے شب زبان لگیMomin Khan Momin (1800–1852)
  21. اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلےستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلےMir Anees (1803–1874)
  22. اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروشطلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروشMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  23. جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیےنہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  24. امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکامال نیک ہو جس کا وہ کام ہو نہ سکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  25. بغیر یار گوارا نہیں کباب شرابگزک ہے داغ مجھے اور خون ناب شرابImdad Ali Bahr (1810–1878)
  26. خدا پرست ہوئے ہم نہ بت پرست ہوئےکسی طرف نہ جھکا سر کچھ ایسے مست ہوئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  27. کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیںکوئی مرے کہ جیے کچھ انہیں خیال نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  28. چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوابرنگ سبزۂ بیگانہ پائمال ہواPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  29. جو دن کو نکلو تو خورشید گرد سر گھومےچلو جو شب کو تو قدموں پہ ماہتاب گرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  30. بہار آئے عنادل نے مل خروش کیابدن میں خوں نے صراحی میں مے نے جوش کیاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  31. بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرےہزار شکر کہ جیتے خدا کے گھر سے پھرےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  32. جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شرابتو چشم جام سے اے شیخ دیکھ سوئے شرابMunir Shikohabadi (1814–1880)
  33. عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقتوہ دوپہر کہ جو مخصوص ہے زوال کا وقتHatim Ali Mehr (1815–1879)
  34. یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہےوگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہےGeorge Puech Shor (1823–1894)
  35. وہ انتہا کے ہیں نازک میں سخت جاں ہوں کمالعجب طرح کی مصیبت پڑی ہے خنجر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  36. امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہواوہ بت وفا پہ نہ آیا میں بے وفا نہ ہواAmeer Minai (1829–1900)
  37. کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھاتو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھاAmeer Minai (1829–1900)
  38. میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہےزمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہےAmeer Minai (1829–1900)
  39. کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہےخدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئےAmeer Minai (1829–1900)
  40. مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہایہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیںAmeer Minai (1829–1900)
  41. بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملےفقیر ہیں کوئی چلو خدا کی راہ ملےDagh Dehlvi (1831–1905)
  42. غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیاتمام رات قیامت کا انتظار کیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  43. ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھےجواب دینے لگی طاقت سوال مجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
  44. بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہوہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیےDagh Dehlvi (1831–1905)
  45. وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملاملا وہ غم کدہ جس میں چراغ بھی نہ ملاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  46. تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیںتری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  47. جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہواکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
  48. گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دنAkbar Allahabadi (1846–1921)
  49. مسوں کے سامنے کیا مذہبی بہانہ چلےچلیں گے ہم بھی اسی رخ جدھر زمانہ چلےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  50. ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیںیہ سچ بھی ہے کہ مزا بے یقیں تو کچھ بھی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)