Poetry
Ramal Musaddas Mahzuf
رمل مسدس محذوف- دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کاہے مطالعہ مطلع انوار کاWali Dakani (1667–1707)
- مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجنآ جدائی خوب نئیں مل جا سجنShah Mubarak Abru (1683–1733)
- پیچ بھایا مجھ کو تجھ دستار کابند ہے دل طرۂ زرتار کاFaez Dehlvi (1690–1738)
- ہولی (فائز دہلوی)Faez Dehlvi (1690–1738)
- سب مخالف جب کنارے ہو گئےہم میں اور اس میں اشارے ہو گئےShah Hatim (1699–1783)
- شہر میں پھرتا ہے وہ مے خوار مستکیوں نہ ہو ہر کوچہ و بازار مستShah Hatim (1699–1783)
- غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گاچشمۂ خورشید شبنم ہووے گاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تمشرط معشوقی وفا کرتے ہو تمSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کیوں ترے گیسو کوں گیسو بولناںدل میں آتا ہے کہ شبو بولناںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- یار گرم مہربانی ہو گیادشمن جانی تھا جانی ہو گیاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تہمت چند اپنے ذمے دھر چلےجس لیے آئے تھے سو ہم کر چلےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجوم یاس جی گھبرا گیاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- اب نہیں سینے میں میرے جائے داغسوز دل سے داغ ہے بالائے داغMir Taqi Mir (1723–1810)
- تاب دل صرف جدائی ہو چکییعنی طاقت آزمائی ہو چکیMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیارات کو سینہ بہت کوٹا گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہتدل لگا کر ہم تو پچھتائے بہتMir Taqi Mir (1723–1810)
- ساقی کوثر کے پیارے السلامتشنہ لب سید ہمارے السلامMir Taqi Mir (1723–1810)
- عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہاآخر اب دوری میں جی جاتا رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
- غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہادل کے جانے کا نہایت غم رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچMir Taqi Mir (1723–1810)
- مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہےیاں سلیماں کے مقابل مور ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- در مذمت آئینہ دارMir Taqi Mir (1723–1810)
- اس گل باغ امامت کے ہیں پھولآبیاری جن کی کرتی تھی بتولMir Taqi Mir (1723–1810)
- موہنی بلیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کپی کا بچہMir Taqi Mir (1723–1810)
- مورنامہMir Taqi Mir (1723–1810)
- در مدح نواب آصف الدولہ بہادر (II)Mir Taqi Mir (1723–1810)
- در ہجو نااہل مسمیٰ بہ زبان زد عالمMir Taqi Mir (1723–1810)
- مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ (II)Mir Taqi Mir (1723–1810)
- در حال عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
- میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہوآدمی ہونا تو مشکل ہے میاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- اے صف مژگاں تکلف بر طرفدیکھتی کیا ہے الٹ دے صف کی صفNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کیا ادا کیا ناز ہے کیا آن ہےیاں پری کا حسن بھی حیران ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چشم نے کی گوہر افشانی صریحہو گئی یہ ہم سے نادانی صریحMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- رو کے ان آنکھوں نے دریا کر دیاابر کو پانی سے پتلا کر دیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کام میں اپنے ظہور حق ہے آپحضرت آدم کے تو ماں تھی نہ باپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تولیکن اپنے کام میں یکتا ہے توMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- تجھ سے یوں یک بار توڑوں کس طرحمیں قدم تیرے یہ چھوڑوں کس طرحInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- چشم میں کب اشک بھر لاتے ہیں ہمرات دن موتی ہی برساتے ہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
- زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیازور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیاShah Naseer (1756–1838)
- دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آجکوئی دلبر بے مثال آتا ہے آجMah Laqa Chanda (1768–1824)
- اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیےکچھ ہمیں کہنا ہے پیارے آئیےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دل کے آئینے میں ہے تصویر یارجب ذرا گردن جھکائی دیکھ لیLala Mauji Ram Mauji (b. 1789)
- یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گےتم تو کیا ہو آسماں ہل جائیں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیاکیا بتاؤں دوستو کیا ہو گیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیاMirza Ghalib (1797–1869)
- کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کےMirza Ghalib (1797–1869)
- چاہیے اچھّوں کو جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیےMirza Ghalib (1797–1869)
- بدر ہے آئینۂ طاقِ ہلالغافلاں نقصان سے پیدا ہے کمالMirza Ghalib (1797–1869)