Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوںمیں بیابانوں میں رونے کو نکل جاتا ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  2. کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصلمیرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصلHatim Ali Mehr (1815–1879)
  3. میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھاراستہ دیکھ لیا ہے مرے گھر کا سیدھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  4. انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیساناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیساTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  5. جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیںبہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  6. یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھےباغبان چمن محفل جاناں ہم تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  7. مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنےتم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  8. اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہےہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  9. دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیںاپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  10. دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئےتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئےAmeer Minai (1829–1900)
  11. صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنابات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہناAmeer Minai (1829–1900)
  12. ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میریکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میریAmeer Minai (1829–1900)
  13. ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشقAmeer Minai (1829–1900)
  14. تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
  15. کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیںناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  16. کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعدیاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعدAmeer Minai (1829–1900)
  17. مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائےسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  18. گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کاپر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  19. منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سےکوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  20. اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کایاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کاDagh Dehlvi (1831–1905)
  21. اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کادوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کاDagh Dehlvi (1831–1905)
  22. ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہےنہیں معلوم کہ انجام کو ہونا کیا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  23. پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکریہ بلا گھر سے نکالی ہوئی آئی کیونکرDagh Dehlvi (1831–1905)
  24. جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںکیا ہی جھنجھلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  25. جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہےتم تلافی جو کرو اس کی ضرورت کیا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  26. داغ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہےتیرا اللہ نگہبان کہاں جاتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  27. دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیںدیکھ لیتا ہے جو کوئی وہیں تھم جاتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  28. راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںاور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  29. سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھییہی کم بخت دکھا دیتی ہے صورت اچھیDagh Dehlvi (1831–1905)
  30. کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیادیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  31. لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیراDagh Dehlvi (1831–1905)
  32. ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئیآنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  33. یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پررکھ لیا تو نے تو عشاق کو تلواروں پرDagh Dehlvi (1831–1905)
  34. یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئیاس لیے روٹھ رہے ہیں کہ منائے کوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  35. پند نامہDagh Dehlvi (1831–1905)
  36. اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کوجا کے آنا نہیں دنیا میں دوبارہ ہم کوDagh Dehlvi (1831–1905)
  37. بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیںہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  38. ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھوامتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  39. تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کودوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کوDagh Dehlvi (1831–1905)
  40. کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میریلب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میریDagh Dehlvi (1831–1905)
  41. دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کرپڑ رہے کوئی مسلمان بھی کافر ہو کرJalal Lakhnavi (1832–1909)
  42. ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہوناجس قدر دیکھنا اتنا ہی پشیماں ہوناQalaq Meerathi (1835–1880)
  43. ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھےاور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  44. پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیںیہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  45. تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیںگھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  46. ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سےعہد و پیماں ہیں یہی زیست میں پیمانے سےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  47. سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کاکچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  48. کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتےچھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  49. واں طبیعت دم تقریر بگڑ جاتی ہےبات کی بات میں توقیر بگڑ جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  50. ہائے اس شوخ کا انداز سے آنا شب وصلاور رہ رہ کے وہ احسان جتانا شب وصلZaheer Dehlvi (1835–1911)