Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوںمیں بیابانوں میں رونے کو نکل جاتا ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصلمیرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصلHatim Ali Mehr (1815–1879)
- میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھاراستہ دیکھ لیا ہے مرے گھر کا سیدھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیساناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیساTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیںبہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھےباغبان چمن محفل جاناں ہم تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنےتم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہےہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیںاپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
- دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئےتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئےAmeer Minai (1829–1900)
- صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنابات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہناAmeer Minai (1829–1900)
- ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میریکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میریAmeer Minai (1829–1900)
- ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشقAmeer Minai (1829–1900)
- تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
- کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیںناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعدیاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعدAmeer Minai (1829–1900)
- مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائےسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کاپر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سےکوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کایاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کاDagh Dehlvi (1831–1905)
- اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کادوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کاDagh Dehlvi (1831–1905)
- ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہےنہیں معلوم کہ انجام کو ہونا کیا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکریہ بلا گھر سے نکالی ہوئی آئی کیونکرDagh Dehlvi (1831–1905)
- جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںکیا ہی جھنجھلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہےتم تلافی جو کرو اس کی ضرورت کیا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- داغ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہےتیرا اللہ نگہبان کہاں جاتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیںدیکھ لیتا ہے جو کوئی وہیں تھم جاتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںاور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھییہی کم بخت دکھا دیتی ہے صورت اچھیDagh Dehlvi (1831–1905)
- کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیادیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیراDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئیآنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پررکھ لیا تو نے تو عشاق کو تلواروں پرDagh Dehlvi (1831–1905)
- یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئیاس لیے روٹھ رہے ہیں کہ منائے کوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- پند نامہDagh Dehlvi (1831–1905)
- اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کوجا کے آنا نہیں دنیا میں دوبارہ ہم کوDagh Dehlvi (1831–1905)
- بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیںہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھوامتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کودوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کوDagh Dehlvi (1831–1905)
- کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میریلب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میریDagh Dehlvi (1831–1905)
- دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کرپڑ رہے کوئی مسلمان بھی کافر ہو کرJalal Lakhnavi (1832–1909)
- ماتم دید ہے دیدار کا خواہاں ہوناجس قدر دیکھنا اتنا ہی پشیماں ہوناQalaq Meerathi (1835–1880)
- ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھےاور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیںیہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیںگھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سےعہد و پیماں ہیں یہی زیست میں پیمانے سےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کاکچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتےچھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- واں طبیعت دم تقریر بگڑ جاتی ہےبات کی بات میں توقیر بگڑ جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ہائے اس شوخ کا انداز سے آنا شب وصلاور رہ رہ کے وہ احسان جتانا شب وصلZaheer Dehlvi (1835–1911)