Poetry
Bahr-e Zamzama Mutadarik Muraba' Muza'af
بحرِ زمزمہ/ متدارک مربع مضاعف- مجھ قبر سے یار کیونکے جاوےہے شمع مزار کیونکے جاوےWali Uzlat (1692–1775)
- گرم جوشیاب سورج سر پر آ دھمکے گاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- او دیس سے آنے والا ہے بتااو دیس سے آنے والے بتاAkhtar Shirani (1905–1948)
- اب کیوں اس دن کا ذکر کروجب دل ٹکڑے ہو جائے گاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- سب کاٹ دوبسمل پودوں کوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- موتی ہو کہ شیشہ جام کہ درجو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ دھوپ کنارا شام ڈھلےملتے ہیں دونوں وقت جہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- مزدوروں کا گیتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کچھ کام کرو کچھ کام کرودنیا میں پیدا نام کروFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- یعنیMeeraji (1912–1949)
- ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ایمپھر اک دن ایسا آئے گاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مایوس تو ہوں وعدے سے ترےکچھ آس نہیں کچھ آس بھی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- فٹ پاتھ پہ اک بیکس انساںتکلیف میں تڑپا کرتا ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- اوروں سے الگ دنیا سے جدایکتائے زمانہ ہوں گویاRabia Barni (b. 1924)
- پھر رات کی لانبی پلکوں پرتخیل کے موتی ڈھلتے ہیںRabia Barni (b. 1924)
- تم اکثر کہتے رہتے ہوپھولوں کا کیا ہےRabia Barni (b. 1924)
- وہ لحن جو صدیوں صدیوں تکانسان کے دل کی دھڑکن تھاRabia Barni (b. 1924)
- کل ہم نے سپنا دیکھا ہےجو اپنا ہو نہیں سکتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم بنجارے دل والے ہیںاور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم گھوم چکے بستی بن میںاک آس کی پھانس لیے من میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ بچہ کیسا بچہ ہےیہ بچہ کالا کالا ساIbn-e-Insha (1927–1978)
- سورج سے آگے اک جنگل ہےمیں اس جنگل کا دیا ہوںQamar Jameel (1927–2000)
- کچھ باتیں ان کہی رہنے دوکچھ باتیں ان سنی رہنے دوMunir Niazi (1928–2006)
- تم اپنے عقیدوں کے نیزےہر دل میں اتارے جاتے ہوAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم خوابوں کے بیوپاری تھےپر اس میں ہوا نقصان بڑاAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ آخری ساعت شام کی ہےیہ شام جو ہے مہجوری کیAhmad Faraz (1931–2008)
- جہاں لمحۂ شام بکھیر دیاوہیں اک پیغام بکھیر دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- اک لاش کو اک چوراہے پرکچھ لوگ کھڑے تھے گھیرے ہوئےDaud Ghazi (1932–1963)
- پھولوں کی طرح لب کھول کبھیخوشبو کی زباں میں بول کبھیGulzar (b. 1934)
- لو تیسواں سال بھی بیت گیالو بال روپہلی ہونے لگےShahryar (1936–2012)
- وہ دور بلند پہاڑوں پرملبوس فرشتوں کا پہنےShahryar (1936–2012)
- جیون مایا ہریالی میںتم جوت جگاتی آئی ہوFaiyaz Rifat (1940–2022)
- آنکھیں میری کیا ڈھونڈھتی ہیںپانی میں یا چٹانوں میںBadnam Nazar (1941–2023)
- خوابوں سے تہی بے نور آنکھیںہر شام نئے منظر چاہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- لو گھنٹہ بجا انٹرول کااب وقت آیا ہے ہلچل کاKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- بند اٹیچی میںپڑا ہوا مل جاتا ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- رہے دھوپ میں خشک شجر کی طرحپئے درد بھی راہ گزر کی طرحZafar Hashmi (b. 1945)
- اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوFahmida Riaz (1946–2018)
- اس کو اک دن تو جانا تھامجھ سے کیا رشتہ کیا ناتاFahmida Riaz (1946–2018)
- انسانوں کے دل میں بچوںاک پیار کا دریا بہتا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- اے دوست پرانے پہچانےہم کتنی مدت بعد ملےFahmida Riaz (1946–2018)
- دلی! تری چھاؤں بڑی قہریمری پوری کایا پگھل رہیFahmida Riaz (1946–2018)
- کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گےFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ سچ ہے اب آزاد ہیں ہممٹی سے سگندھ یہ آتی ہےOzair Rahman (b. 1949)
- میں جب بھی اکیلا ہوتا ہوںدل میرا مجھ سے کہتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- جو روایت کا منکر ہو آئےنقش ہائے بزرگاں مٹائےNadeem Siddiqui (b. 1951)
- جب میرے وطن کی گلیوں میںظلمت نے پنکھ پسارے تھےGauhar Raza (b. 1956)