Poetry
- آہ کو جو کہوں برائی کیبخت نے کون سی رسائی کیزین العابدین خاں عارف
- اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیادشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیازین العابدین خاں عارف
- اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیامجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیازین العابدین خاں عارف
- اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتےارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتےزین العابدین خاں عارف
- ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئیبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیزین العابدین خاں عارف
- تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاریتقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاریزین العابدین خاں عارف
- تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تککون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تکزین العابدین خاں عارف
- جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلےیہ سوئے ملک عدم شرمسار ہو کے چلےزین العابدین خاں عارف
- در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمرلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمرزین العابدین خاں عارف
- رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیاشادئ وعدۂ دل دار نے سونے نہ دیازین العابدین خاں عارف
- رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام راتروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام راتزین العابدین خاں عارف
- زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھامانتا ہم کو کبھی یہ فلک پیر بھی تھازین العابدین خاں عارف
- سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہوہم نشیں کوئی نہ ہو اور رازداں کوئی نہ ہوزین العابدین خاں عارف
- سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیںپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیںزین العابدین خاں عارف
- سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاریپاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاریزین العابدین خاں عارف
- قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاکپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاکزین العابدین خاں عارف
- کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کرکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
- کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میراحال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرازین العابدین خاں عارف
- کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئےقلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئےزین العابدین خاں عارف
- کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نےاس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نےزین العابدین خاں عارف
- کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنادیکھا تو خیر دیکھا پر دل سنبھال اپنازین العابدین خاں عارف
- مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گےہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گےزین العابدین خاں عارف
- میرے دل کو بٹھا دیا کس نےآ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نےزین العابدین خاں عارف
- ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیادیکھ کے ان کو اشارے سے بلایا نہ گیازین العابدین خاں عارف
- نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتامجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتازین العابدین خاں عارف
- نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میراکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرازین العابدین خاں عارف
- وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کرہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
- ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتالیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتازین العابدین خاں عارف
- ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میںروز مر رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میںزین العابدین خاں عارف
- ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیادر و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیازین العابدین خاں عارف
- ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوشکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوشزین العابدین خاں عارف
- ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئےبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئےزین العابدین خاں عارف
- یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپدفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپزین العابدین خاں عارف