Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہ کو جو کہوں برائی کیبخت نے کون سی رسائی کیزین العابدین خاں عارف
  2. اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیادشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیازین العابدین خاں عارف
  3. اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیامجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیازین العابدین خاں عارف
  4. اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتےارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتےزین العابدین خاں عارف
  5. ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئیبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیزین العابدین خاں عارف
  6. تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاریتقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاریزین العابدین خاں عارف
  7. تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تککون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تکزین العابدین خاں عارف
  8. جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلےیہ سوئے ملک عدم شرمسار ہو کے چلےزین العابدین خاں عارف
  9. در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمرلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمرزین العابدین خاں عارف
  10. رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیاشادئ وعدۂ دل دار نے سونے نہ دیازین العابدین خاں عارف
  11. رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام راتروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام راتزین العابدین خاں عارف
  12. زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھامانتا ہم کو کبھی یہ فلک پیر بھی تھازین العابدین خاں عارف
  13. سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہوہم نشیں کوئی نہ ہو اور رازداں کوئی نہ ہوزین العابدین خاں عارف
  14. سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیںپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیںزین العابدین خاں عارف
  15. سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاریپاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاریزین العابدین خاں عارف
  16. قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاکپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاکزین العابدین خاں عارف
  17. کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کرکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
  18. کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میراحال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرازین العابدین خاں عارف
  19. کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئےقلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئےزین العابدین خاں عارف
  20. کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نےاس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نےزین العابدین خاں عارف
  21. کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنادیکھا تو خیر دیکھا پر دل سنبھال اپنازین العابدین خاں عارف
  22. مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گےہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گےزین العابدین خاں عارف
  23. میرے دل کو بٹھا دیا کس نےآ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نےزین العابدین خاں عارف
  24. ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیادیکھ کے ان کو اشارے سے بلایا نہ گیازین العابدین خاں عارف
  25. نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتامجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتازین العابدین خاں عارف
  26. نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میراکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرازین العابدین خاں عارف
  27. وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کرہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
  28. ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتالیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتازین العابدین خاں عارف
  29. ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میںروز مر رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میںزین العابدین خاں عارف
  30. ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیادر و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیازین العابدین خاں عارف
  31. ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوشکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوشزین العابدین خاں عارف
  32. ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئےبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئےزین العابدین خاں عارف
  33. یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپدفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپزین العابدین خاں عارف