Poetry
- اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیںکہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیںZafar Zaidi (1950–1983)
- اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائےجاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائےZafar Zaidi (1950–1983)
- اس طرح ٹوٹ کر گرا پانیبادلوں میں نہیں بچا پانیZafar Zaidi (1950–1983)
- اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائےجس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائےZafar Zaidi (1950–1983)
- بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھاکہ شوق بھی تو اسے چاند کے سفر کا تھاZafar Zaidi (1950–1983)
- بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گابس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گاZafar Zaidi (1950–1983)
- تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میںسو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میںZafar Zaidi (1950–1983)
- جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیادلوں کے بیچ عجب فاصلہ دکھائی دیاZafar Zaidi (1950–1983)
- چند فقرے زیر لب تڑپا کیےوہ ہمیں اور ہم انہیں دیکھا کیےZafar Zaidi (1950–1983)
- حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوںمیں تشنگی میں بھی سمت سراب کیوں دیکھوںZafar Zaidi (1950–1983)
- دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگامیں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگاZafar Zaidi (1950–1983)
- رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہےآگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہےوہ اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوامیرا ہی سایہ تھا وہ دیوار سے لپٹا ہواZafar Zaidi (1950–1983)
- نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہےمگر وہ سوکھا ہوا پیڑ گھر میں باقی ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- ہر ایک دن تھا اسی کا ہر ایک رات اس کیمرے بدن میں رہی مدتوں حیات اس کیZafar Zaidi (1950–1983)
- ہمارے گھر کا عجیب و غریب منظر ہےکہیں تو آگ لگی ہے کہیں سمندر ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- اس سے ملتا ہوںتو یوں محسوس ہوتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- مجھے کیا خبر تھیکہ تم میری انگلی پکڑ کر چلو گیZafar Zaidi (1950–1983)
- مہرباں ساعت نےاپنی گود میںZafar Zaidi (1950–1983)
- میں اپنی آنکھوں کو کھو چکا جبتو راستوں کا سوال آیاZafar Zaidi (1950–1983)
- میں جب بھی اکیلا ہوتا ہوںدل میرا مجھ سے کہتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- میں کل راتاس شہر کی اس سڑک پر گیاZafar Zaidi (1950–1983)
- اٹھوجاؤ فوراً نہاؤZafar Zaidi (1950–1983)
- ایک دن چھٹی کا یوں گزراکہ مجھ کو دکھ گئے ساتوں طبقZafar Zaidi (1950–1983)
- عجیب لڑکی ہے وہکہ اس کو خدا بنایا تو وہ خفا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- میں آندھیوں کی سیاہ یلغار سے بچا بھیتو اپنی منزل نہ پا سکوں گاZafar Zaidi (1950–1983)
- ہماری دسترس میں کیا ہے کیا نہیںزمیں نہیںZafar Zaidi (1950–1983)