Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیںکہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیںZafar Zaidi (1950–1983)
  2. اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائےجاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائےZafar Zaidi (1950–1983)
  3. اس طرح ٹوٹ کر گرا پانیبادلوں میں نہیں بچا پانیZafar Zaidi (1950–1983)
  4. اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائےجس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائےZafar Zaidi (1950–1983)
  5. بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھاکہ شوق بھی تو اسے چاند کے سفر کا تھاZafar Zaidi (1950–1983)
  6. بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گابس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گاZafar Zaidi (1950–1983)
  7. تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میںسو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میںZafar Zaidi (1950–1983)
  8. جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیادلوں کے بیچ عجب فاصلہ دکھائی دیاZafar Zaidi (1950–1983)
  9. چند فقرے زیر لب تڑپا کیےوہ ہمیں اور ہم انہیں دیکھا کیےZafar Zaidi (1950–1983)
  10. حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوںمیں تشنگی میں بھی سمت سراب کیوں دیکھوںZafar Zaidi (1950–1983)
  11. دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگامیں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگاZafar Zaidi (1950–1983)
  12. رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہےآگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  13. قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہےوہ اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  14. کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوامیرا ہی سایہ تھا وہ دیوار سے لپٹا ہواZafar Zaidi (1950–1983)
  15. نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہےمگر وہ سوکھا ہوا پیڑ گھر میں باقی ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  16. ہر ایک دن تھا اسی کا ہر ایک رات اس کیمرے بدن میں رہی مدتوں حیات اس کیZafar Zaidi (1950–1983)
  17. ہمارے گھر کا عجیب و غریب منظر ہےکہیں تو آگ لگی ہے کہیں سمندر ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  18. اس سے ملتا ہوںتو یوں محسوس ہوتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  19. مجھے کیا خبر تھیکہ تم میری انگلی پکڑ کر چلو گیZafar Zaidi (1950–1983)
  20. مہرباں ساعت نےاپنی گود میںZafar Zaidi (1950–1983)
  21. میں اپنی آنکھوں کو کھو چکا جبتو راستوں کا سوال آیاZafar Zaidi (1950–1983)
  22. میں جب بھی اکیلا ہوتا ہوںدل میرا مجھ سے کہتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  23. میں کل راتاس شہر کی اس سڑک پر گیاZafar Zaidi (1950–1983)
  24. اٹھوجاؤ فوراً نہاؤZafar Zaidi (1950–1983)
  25. ایک دن چھٹی کا یوں گزراکہ مجھ کو دکھ گئے ساتوں طبقZafar Zaidi (1950–1983)
  26. عجیب لڑکی ہے وہکہ اس کو خدا بنایا تو وہ خفا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  27. میں آندھیوں کی سیاہ یلغار سے بچا بھیتو اپنی منزل نہ پا سکوں گاZafar Zaidi (1950–1983)
  28. ہماری دسترس میں کیا ہے کیا نہیںزمیں نہیںZafar Zaidi (1950–1983)