Poetry
- اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہےخون ہی نے خون کو پسپا رکھا ہےTahir Azeem (b. 1978)
- اک ضرورت میں صرف ہو گئے تھےپھر مرے ہاتھ برف ہو گئے تھےTahir Azeem (b. 1978)
- اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میںاپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میںTahir Azeem (b. 1978)
- ان اندھیروں سے لے کے جاؤں گامیں تجھے روشنی دکھاؤں گاTahir Azeem (b. 1978)
- ایک صف میں شجر لگے ہوئے ہیںہم بھی اک شاخ پر لگے ہوئے ہیںTahir Azeem (b. 1978)
- بڑھ رہا ہوں خیال سے آگےکچھ نہیں ماہ و سال سے آگےTahir Azeem (b. 1978)
- تمہیں کچھ اجنبی اندر ملیں گےہم اپنے شہر سے باہر ملیں گےTahir Azeem (b. 1978)
- جیسے سوال میں ہو کوئی جواب سارکھ کر چلا گیا وہ آنکھوں میں خواب ساTahir Azeem (b. 1978)
- خواب سا تھا خیال آخر شبرہ گیا اک ملال آخر شبTahir Azeem (b. 1978)
- خواہشوں کی بادشاہی کچھ نہیںدل میں شوق کج کلاہی کچھ نہیںTahir Azeem (b. 1978)
- روشنی کے جو طلب گار ہوئے ہم دونوںایک سورج کے خریدار ہوئے ہم دونوںTahir Azeem (b. 1978)
- زندگی سے مکرنے والوں کویاد رکھتے ہیں مرنے والوں کوTahir Azeem (b. 1978)
- کسے معلوم حال دل ہمارامحبت میں ہے مستقبل ہماراTahir Azeem (b. 1978)
- مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کامیں بھی کردار ہوں کہانی کاTahir Azeem (b. 1978)
- محبت سے گزر جانا ہمارانہ تھا آسان مر جانا ہماراTahir Azeem (b. 1978)
- موسم گل بہار کے دن تھےجو ترے میرے پیار کے دن تھےTahir Azeem (b. 1978)
- میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتاکچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اتر جاتاTahir Azeem (b. 1978)
- وہی اک بات جو آئی گئی ہےبہت تکلیف پہنچائی گئی ہےTahir Azeem (b. 1978)
- ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہومیرے لئے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہوTahir Azeem (b. 1978)
- ہماری روح کس درجہ ہے پیاسیاچانک گھیر لیتی ہے اداسیTahir Azeem (b. 1978)
- یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میںٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میںTahir Azeem (b. 1978)
- وہ حرف آخر کہاں گیا ہےوہ حرف جس کی تہوں میں اپنیTahir Azeem (b. 1978)