Poetry
- آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیںتو اٹھاوے ناز سے ظالم لگا ٹھوکر جبیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوااہل جنوں کدھر گئے یاراں کو کیا ہواTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیںگویا کہ ان کے ظلم کا انجام ہی نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہملب خشک یہ محیط ہے کب اس قدر کہ ہمTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ایک ہی جام کو پلا ساقیعدل اور ہوش لے گیا ساقیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کامذہب میں مرے کفر ہے انکار بتاں کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاںکیا عالم کو سارے قتل لو تھیں ہر طرف پڑیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تم سے اب کامیاب اور ہی ہےآہ ہم پر عذاب اور ہی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحبخدا جانے جئیں گے یا مریں گے ہم میاں صاحبTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہےآہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوشبلا سے تیری میں نا خوش ہوں یا خوشTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیںان کے پھر دیکھنے کی واری ہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تیری مخمور چشم اے مے نوشجن نے دیکھی سو ہو گیا خاموشTaban Abdul Hai (1715–1749)
- خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاںان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- خوب رو جو ایک کا محبوب نہیںایسے ہرجائی سے ملنا خوب نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوںرشک سے شمع کو جلاتا ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلکخاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلکTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبحکیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوںباراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیںکیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کودن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کوTaban Abdul Hai (1715–1749)
- عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھرنہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گرTaban Abdul Hai (1715–1749)
- عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہےمردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیںچاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آجمیں ہوں اور ہاتھ مرا اور یہ گریبان ہے آجTaban Abdul Hai (1715–1749)
- قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہےتصور بھی چمن کا ہم کو بس ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرحساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہےکوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگزعبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگزTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائقہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائقTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبسیہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشیہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپناہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
- لڑکا جو خوبرو ہے سو مجھ سے بچا نہیںوہ کون ہے کہ جس سے میں یارو ملا نہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہےکروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہےکہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاںکرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویاراتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیحکل شئ من الملیح ملیحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہ کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپناسناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا فغاں اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہ مرے پاس عزت رمضاںنہ کبھو کی عبادت رمضاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہیں تم مانتے میرا کہا جیکبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبتطائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبتTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کےستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویںاور خاک اپنے سر پر من مانتی اڑاویںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرحمنتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔتو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بسنہ ہوا تو بھی کبھی ہائے یہ ارشاد کہ بسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتیکاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوضTaban Abdul Hai (1715–1749)