Poetry
- اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوںبرق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوںShah Naseer (1756–1838)
- ادھر ابر لے چشم نم کو چلاادھر ساقیا! میں بھی یم کو چلاShah Naseer (1756–1838)
- اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیادشمن کو دوست دار کیا ہم نے کیا کیاShah Naseer (1756–1838)
- اس کاکل پر خم کا خلل جائے تو اچھادل سر سے بلا تیرے یہ ٹل جائے تو اچھاShah Naseer (1756–1838)
- اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میںاشک آنکھ میں ہے دل میں ہے داغ آہ جگر میںShah Naseer (1756–1838)
- بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوںکیفیت کے ہم نے جو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوںShah Naseer (1756–1838)
- بیاباں مرگ ہے مجنون خاک آلودہ تن کس کاسیے ہے سوزن خار مغیلاں تو کفن کس کاShah Naseer (1756–1838)
- بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھاقتل عشاق پہ بیڑا یہ اٹھانا کیا تھاShah Naseer (1756–1838)
- بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہماراکیا جانے کیا ہووے گا انجام ہماراShah Naseer (1756–1838)
- پامال راہ عشق ہیں خلقت کی کھا ٹھوکر بھی ہمجوں شیشہ نازک تر تھے کیا سختی میں ہیں پتھر بھی ہمShah Naseer (1756–1838)
- ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آنہیں دیکھے آج تک ابر میں مجھے اب دکھانے کو اختر آShah Naseer (1756–1838)
- ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کایہی ہے کفر عاشق کا یہی اسلام عاشق کاShah Naseer (1756–1838)
- تو ضد سے شب وصل نہ آیا تو ہوا کیاہم مر نہ گئے دل کو کڑھایا تو ہوا کیاShah Naseer (1756–1838)
- ٹانکوں سے زخم پہلو لگتا ہے کنکھجورامت چھیڑ میرے دل کو بیٹھا ہے کنکھجوراShah Naseer (1756–1838)
- جب تلک چرب نہ جوں شمع زباں کیجئے گاسرگزشت اپنی کا کیا خاک بیاں کیجئے گاShah Naseer (1756–1838)
- جدا نہیں ہے ہر اک موج دیکھ آب کے بیچحباب بحر میں ہے بحر ہے حباب کے بیچShah Naseer (1756–1838)
- جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیاجامۂ عریانی اپنا زعفرانی ہو گیاShah Naseer (1756–1838)
- جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصلکہ دل کو لو لگ رہی یہی ہے چراغ روشن مراد حاصلShah Naseer (1756–1838)
- جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھادوست افسوس نہ سمجھا مجھے دشمن سمجھاShah Naseer (1756–1838)
- جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقفوہ مطلب دل خود کام سے نہیں واقفShah Naseer (1756–1838)
- جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلومجبریل ہے ہر آن میں نازل نہیں معلومShah Naseer (1756–1838)
- جوں ذرہ نہیں ایک جگہ خاک نشیں ہماے مہر جہاں تاب جہاں تو ہے وہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
- چشم میں کب اشک بھر لاتے ہیں ہمرات دن موتی ہی برساتے ہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
- چھوڑا نہ تجھے نے رام کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہواہم سے تو بت کافر بہ خدا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہواShah Naseer (1756–1838)
- حرم کو شیخ مت جا ہے بت دل خواہ صورت میںاگر ہے مرد معنی دیکھ لے اللہ صورت میںShah Naseer (1756–1838)
- خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپناچندے اک اور ہے گردش میں ستارا اپناShah Naseer (1756–1838)
- خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پرزاغ کو بہر تصدق رکھ سر بیمار پرShah Naseer (1756–1838)
- خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوںسلسلہ جنبان شور خانۂ زنجیر ہوںShah Naseer (1756–1838)
- خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھایہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھاShah Naseer (1756–1838)
- دکھا دو گر مانگ اپنی شب کو تو حشر برپا ہو کہکشاں پرچنو جبیں پر کبھی جو افشاں تو نکلیں تارے نہ آسماں پرShah Naseer (1756–1838)
- دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیاشیشہ یہ ایک دم میں پری خانہ ہو گیاShah Naseer (1756–1838)
- دل کو کس صورت سے کیجے چشم دلبر سے جداشیشۂ مے کو نہیں رکھتے ہیں ساغر سے جداShah Naseer (1756–1838)
- دل میں ہے کیا جانئے کس کا خیال نقش پالگ گئیں آنکھیں زمیں سے جو مثال نقش پاShah Naseer (1756–1838)
- دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیںجان شیریں کو نہ کھو کوہ کنی خوب نہیںShah Naseer (1756–1838)
- دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیادے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیاShah Naseer (1756–1838)
- رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کاسر و ساماں ہے ہمیں بے سر و سامانی کاShah Naseer (1756–1838)
- زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیازور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیاShah Naseer (1756–1838)
- سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراںنکل کے دیکھو تم اپنے گھر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراںShah Naseer (1756–1838)
- سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیااک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیاShah Naseer (1756–1838)
- شب جو رخ پر خال سے وہ برقعہ کو اتارے سوتے ہیںچشم قمر لگتی ہی نہیں کیا بلکہ نہ تارے سوتے ہیںShah Naseer (1756–1838)
- شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوںتو پھر خطا ہے مری مشک گر تتار سے لوںShah Naseer (1756–1838)
- صبح گلشن میں ہو گر وہ گل خنداں پیدابیضۂ غنچہ سے ہو بلبل نالاں پیداShah Naseer (1756–1838)
- طلب میں بوسے کی کیا ہے حجت سوال دیگر جواب دیگرسمجھ کے کہہ بات بے مروت سوال دیگر جواب دیگرShah Naseer (1756–1838)
- غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہبحر حسن کے ہیں یہ بھنور دو کان کا بالا زلف کا حلقہShah Naseer (1756–1838)
- فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاںخاک سیر ہو کیجے سیر زندگانی یاںShah Naseer (1756–1838)
- قدم نہ رکھ مری چشم پرآب کے گھر میںبھرا ہے موج کا طوفاں حباب کے گھر میںShah Naseer (1756–1838)
- کبھو نہ اس رخ روشن پہ چھائیاں دیکھیںگھٹائیں چاند پہ سو بار چھائیاں دیکھیںShah Naseer (1756–1838)
- کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلمگردش نصیب روز ازل سے ہے تو قلمShah Naseer (1756–1838)
- کر کے آزاد ہر اک شہپر بلبل کتراآج صیاد نے ایک اور نیا گل کتراShah Naseer (1756–1838)
- کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و بادقدرت حق سے ہیں بہم آتش و آب و خاک و بادShah Naseer (1756–1838)