Poetry
- اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شایدچند لمحوں کی ہے مہمان یہ دنیا شایدQamar Iqbal (1944–1988)
- اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنادل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھناQamar Iqbal (1944–1988)
- ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤتیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤQamar Iqbal (1944–1988)
- ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریںایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریںQamar Iqbal (1944–1988)
- بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیںسفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
- جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھیوہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھیQamar Iqbal (1944–1988)
- جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوںچہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
- خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوںقرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
- دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھےکروں جو یاد تو سب خواب سا لگے ہے مجھےQamar Iqbal (1944–1988)
- دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگاموند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگاQamar Iqbal (1944–1988)
- سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگاموم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگاQamar Iqbal (1944–1988)
- کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہےگرہ جو کھولیں تو دل اور بھی الجھتا ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- ہر خوشی مقبروں پہ لکھ دی ہےاور اداسی گھروں پہ لکھ دی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہےلڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- یاد موسم وہ پرانے آئےزخم ہنسنے کے زمانے آئےQamar Iqbal (1944–1988)
- یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئےاپنے ہی کان اپنی صدا کو ترس گئےQamar Iqbal (1944–1988)
- یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہےاتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنیQamar Iqbal (1944–1988)
- یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیںبھٹک رہے ہیں مگر تیری جستجو بھی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)