Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شایدچند لمحوں کی ہے مہمان یہ دنیا شایدQamar Iqbal (1944–1988)
  2. اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنادل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھناQamar Iqbal (1944–1988)
  3. ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤتیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤQamar Iqbal (1944–1988)
  4. ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریںایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریںQamar Iqbal (1944–1988)
  5. بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیںسفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
  6. جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھیوہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھیQamar Iqbal (1944–1988)
  7. جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوںچہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
  8. خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوںقرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
  9. دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھےکروں جو یاد تو سب خواب سا لگے ہے مجھےQamar Iqbal (1944–1988)
  10. دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگاموند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگاQamar Iqbal (1944–1988)
  11. سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگاموم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگاQamar Iqbal (1944–1988)
  12. کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہےگرہ جو کھولیں تو دل اور بھی الجھتا ہےQamar Iqbal (1944–1988)
  13. ہر خوشی مقبروں پہ لکھ دی ہےاور اداسی گھروں پہ لکھ دی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
  14. ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہےلڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
  15. یاد موسم وہ پرانے آئےزخم ہنسنے کے زمانے آئےQamar Iqbal (1944–1988)
  16. یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئےاپنے ہی کان اپنی صدا کو ترس گئےQamar Iqbal (1944–1988)
  17. یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہےاتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنیQamar Iqbal (1944–1988)
  18. یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیںبھٹک رہے ہیں مگر تیری جستجو بھی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)