Poetry
- ابر رحمت گھروں پہ رہتے تھےجب دوپٹے سروں پہ رہتے تھےParveen Kaif (b. 1956)
- اب وہ آنگن وہ گھر نہ کھپریلیںپیڑ پنچھی نہ پھول اور بیلیںParveen Kaif (b. 1956)
- بس گیا ہے وہ چاند پر جا کرآؤ ملتے ہیں اس کے گھر جا کرParveen Kaif (b. 1956)
- پیام غم کا وہی غم گسار دیتے ہیںتسلیاں جو نئی بار بار دیتے ہیںParveen Kaif (b. 1956)
- جب کبھی کوئی کام یاد آیاتب انہیں میرا نام یاد آیاParveen Kaif (b. 1956)
- چاند پر کیوں میں اکیلی جاتیساتھ کوئی تو سہیلی جاتیParveen Kaif (b. 1956)
- چاند سورج مرے گھر آتے ہیںکیا حسیں خواب نظر آتے ہیںParveen Kaif (b. 1956)
- چین آتا نہیں ان سے ملاقات کئے بنبولیں نہ وہ میں رہتی نہیں بات کئے بنParveen Kaif (b. 1956)
- حیا تو اس سے شرماتی بہت ہےپڑوسن میری اتراتی بہت ہےParveen Kaif (b. 1956)
- دھوپ کھڑکی سے سرہانے آئیچاند خوابوں کے بجھانے آئیParveen Kaif (b. 1956)
- سکندر کے سفر کی بات نکلےکفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلےParveen Kaif (b. 1956)
- فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگاایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا اچھا لگاParveen Kaif (b. 1956)
- کوئی کسی کی طرح ہے کوئی کسی کی طرحبس ایک آپ کا جلوہ ہے آپ ہی کی طرحParveen Kaif (b. 1956)
- گھونٹ پانی کے سوندھے سوندھے تھےجب وہ مٹی کے آب خورے تھےParveen Kaif (b. 1956)
- لو وہ آنسو سجھائی دینے لگےدن میں تارے دکھائی دینے لگےParveen Kaif (b. 1956)
- نہ بلاؤ مجھے خدا کی طرفمیں اسی کی ہوں بندگی میں لگیParveen Kaif (b. 1956)
- ہم خدا تھے نہ خدائی اپنیکیا بیاں کرتے بڑائی اپنیParveen Kaif (b. 1956)
- یہ چھوٹا سا مکاں بغیا لگانے کون دیتا ہےدر و دیوار پر سبزہ اگانے کون دیتا ہےParveen Kaif (b. 1956)