Poetry
- تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہولگی ہو آگ سینے میں مگر اس میں دھواں کیوں ہوPanna Lal Noor
- جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتامیں سمجھتا ہوں مرے حق میں یہ اچھا ہوتاPanna Lal Noor
- جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگاجس کا وہ بھی نہ ہو تو کیا ہوگاPanna Lal Noor
- چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیںیہ میری رسم عبادت بھی بندگی تو نہیںPanna Lal Noor
- حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہےدیکھنا اہل نظر کا کام ہےPanna Lal Noor
- درماندگیٔ آہ شب گیر کو کیا کہئےاک نالۂ بے کس کی تاثیر کو کیا کہئےPanna Lal Noor
- زندگی کو ایک رنگیں داستاں سمجھا تھا میںزندگی بار گراں ہے یہ کہاں سمجھا تھا میںPanna Lal Noor
- سنیں گے لوگ اسے اپنی داستاں کی طرحفریب دیتا ہوں دنیا کو انکساری کاPanna Lal Noor
- عجیب شخص تھا منصور سوچتا ہوں میںکہ دے کے سر بھی پکارا کیا خدا ہوں میںPanna Lal Noor
- عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتاکسی کم ظرف کا احسان لے کر جی نہیں سکتاPanna Lal Noor
- گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگاسزائے گل پہ غنچوں کو ہنسی آئی تو کیا ہوگاPanna Lal Noor
- محتاج دید و جلوہ کروں کیوں نظر کو میںنظروں میں کھینچ لاتا ہوں جب جلوہ گر کو میںPanna Lal Noor
- مرا درد نہاں ہے اور میں ہوںنشاط جاوداں ہے اور میں ہوںPanna Lal Noor
- میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوایہ تو پتھر ہوا خدا نہ ہواPanna Lal Noor
- میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گامیں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گاPanna Lal Noor
- وہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائےملے تو حاصل عمر رواں کہا جائےPanna Lal Noor
- وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتااگر اتنا اور ہوتا کہ وہ استوار ہوتاPanna Lal Noor
- ہماری آنکھوں کے آگے محفل میں دور جام و سبو چلے ہیںبس ایک ہم ہیں کہ تیری محفل سے پی کے اپنا لہو چلے ہیںPanna Lal Noor
- ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اورپر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اورPanna Lal Noor
- یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھاکانٹوں پہ چلے اور بیاباں نہیں دیکھاPanna Lal Noor