Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس سے پھر کیا گلا کرے کوئیجو کہے سن کے کیا کرے کوئینظام رامپوری
  2. اس قدر آپ کا عتاب رہےدل کو میرے نہ اضطراب رہےنظام رامپوری
  3. اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہمآپ ہی اپنے مدعا ہیں ہمنظام رامپوری
  4. ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارانہ مارا جاں سے جس دم اس کو گر مارا تو کیا مارانظام رامپوری
  5. تصور آپ کا ہے اور میں ہوںیہی اب مشغلا ہے اور میں ہوںنظام رامپوری
  6. تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیاہاے کیا بات تھی کیا بھول گیانظام رامپوری
  7. تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہےذرا دیکھیے تو وہ صورت کہاں ہےنظام رامپوری
  8. جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروںاے ستم گر تیرے دل میں اپنا گھر پیدا کروںنظام رامپوری
  9. جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میںجو کچھ کہوں تو کہیں قینچی ہے زباں منہ میںنظام رامپوری
  10. جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گےجو یاد آئیں گی تیری باتیں تو چپ ہی پہروں رہا کریں گےنظام رامپوری
  11. چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھخط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھنظام رامپوری
  12. حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دنمیرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دننظام رامپوری
  13. خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہےخوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہےنظام رامپوری
  14. دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوںکیا کروں میں اے مرے اللہ میں کس سے کہوںنظام رامپوری
  15. دل لگے ہجر میں کیوں کر میرادل ترا سا نہیں پتھر میرانظام رامپوری
  16. دیکھ اپنے قرار کرنے کواور مرے انتظار کرنے کونظام رامپوری
  17. دیکھیے تو خیال خام مراآپ سے اور برائی کام مرانظام رامپوری
  18. صاف باتوں میں تو کدورت ہےاور لگاوٹ سے ظاہر الفت ہےنظام رامپوری
  19. صدمے یوں غیر پر نہیں آتےتمہیں جور اس قدر نہیں آتےنظام رامپوری
  20. ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کیمیری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کینظام رامپوری
  21. فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہےگر نہ ملا وہ کچھ دنوں کام یہاں تمام ہےنظام رامپوری
  22. کہنے سے نہ منع کر کہوں گاتو میری نہ سن مگر کہوں گانظام رامپوری
  23. کہیے گر ربط مدعی سے ہےکہتے ہیں دوستی تجھی سے ہےنظام رامپوری
  24. کیوں کرتے ہو اعتبار میرامعلوم ہے تم کو پیار میرانظام رامپوری
  25. کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیےدل تو کہے ہے ساتھ ہی دل بر کے سوئیےنظام رامپوری
  26. مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کاجانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کانظام رامپوری
  27. محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئےاب تو چلن لیے ہیں مری جاں نئے نئےنظام رامپوری
  28. مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئینہیں بھی پہر دو پہر ہو گئینظام رامپوری
  29. نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھےتمہاری جدائی نے مارا مجھےنظام رامپوری
  30. وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سےکہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سےنظام رامپوری
  31. وہی لوگ پھر آنے جانے لگےمرے پاس کیوں آپ آنے لگےنظام رامپوری
  32. ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھنظام رامپوری
  33. ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہواقسمت خلاف طبع ہوا جو سخن ہوانظام رامپوری
  34. ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائےکیا بن آئے اس گھڑی جب وہ بگڑ کر بیٹھ جائےنظام رامپوری
  35. یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیاہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیانظام رامپوری
  36. یہ عجب تم نے نکالا سونارات کا جاگنا دن کا سونانظام رامپوری
  37. انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھدیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھنظام رامپوری
  38. بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہےکلیجا منہ کو آ جاتا ہے دل ایسا بگڑتا ہےنظام رامپوری
  39. کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہےبدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہےنظام رامپوری
  40. کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑینہ اٹھا میں ہی اس کوچے سے یہ میں نے زمیں پکڑینظام رامپوری
  41. کہتے ہیں سن کے ماجرا میراتم سے کس روز ربط تھا میرانظام رامپوری
  42. گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتاکہنے کا تمہارے مجھے شکوا نہیں ہوتانظام رامپوری
  43. گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیاکہتے ہیں اچھا ہوا کیا کھل گیانظام رامپوری
  44. مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہےکہیں جڑتی ہے پھر کہیں ٹوٹتی ہےنظام رامپوری
  45. واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیںیاں وہ خواہش ہے کہ ہوتا ہی نہیںنظام رامپوری
  46. وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتامیرا یہ مقولہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتانظام رامپوری