Poetry
- اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہےوہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہےمرزارضا برق
- بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیںان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیںمرزارضا برق
- پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیارنگ رخ بہار گلستاں اڑا دیامرزارضا برق
- جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائےگوہر شبنم گل نیر اعظم ہو جائےمرزارضا برق
- دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئیآئی ہوئی بلا مرے سر پر سے ٹل گئیمرزارضا برق
- رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائےپہنے زنجیر جو چاندی کی طلائی ہو جائےمرزارضا برق
- زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کاعالم وہی ہے آج تلک انتظار کامرزارضا برق
- شمع بھی اس صفا سے جلتی ہےتیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہےمرزارضا برق
- قمر کی وہ خورشید تصویر ہےگلے میں ستاروں کی زنجیر ہےمرزارضا برق
- کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتاہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتامرزارضا برق
- گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیاجلا دو کاٹ کے اس نخل میں نہ بار آیامرزارضا برق
- لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گاپردہ کھل جائے گا ہر پردہ کتاں ہو جائے گامرزارضا برق
- لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتالکھنؤ لعلوں کے معدن سے بدخشاں ہوتامرزارضا برق
- مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتاکبھی خیال میں موئے کمر نہیں آتامرزارضا برق
- مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کاپابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کامرزارضا برق
- میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائےپانی دینے سے نہال قد بالا بڑھ جائےمرزارضا برق
- نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والےخاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والےمرزارضا برق
- نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھاوہی وہی نظر آئے گا جہاں جہاں دیکھامرزارضا برق
- وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گےجب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گےمرزارضا برق
- وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میںکبھی فقیر بھی تھا ان کے ہم نشینوں میںمرزارضا برق
- اثر زلف کا برملا ہو گیابلاؤں سے مل کر بلا ہو گیامرزارضا برق
- چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیاتن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیامرزارضا برق