Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہےوہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہےمرزارضا برق
  2. بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیںان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیںمرزارضا برق
  3. پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیارنگ رخ بہار گلستاں اڑا دیامرزارضا برق
  4. جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائےگوہر شبنم گل نیر اعظم ہو جائےمرزارضا برق
  5. دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئیآئی ہوئی بلا مرے سر پر سے ٹل گئیمرزارضا برق
  6. رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائےپہنے زنجیر جو چاندی کی طلائی ہو جائےمرزارضا برق
  7. زیر زمیں ہوں تشنۂ دیدار یار کاعالم وہی ہے آج تلک انتظار کامرزارضا برق
  8. شمع بھی اس صفا سے جلتی ہےتیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہےمرزارضا برق
  9. قمر کی وہ خورشید تصویر ہےگلے میں ستاروں کی زنجیر ہےمرزارضا برق
  10. کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتاہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتامرزارضا برق
  11. گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیاجلا دو کاٹ کے اس نخل میں نہ بار آیامرزارضا برق
  12. لاکھ پردے سے رخ انور عیاں ہو جائے گاپردہ کھل جائے گا ہر پردہ کتاں ہو جائے گامرزارضا برق
  13. لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتالکھنؤ لعلوں کے معدن سے بدخشاں ہوتامرزارضا برق
  14. مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتاکبھی خیال میں موئے کمر نہیں آتامرزارضا برق
  15. مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کاپابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کامرزارضا برق
  16. میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائےپانی دینے سے نہال قد بالا بڑھ جائےمرزارضا برق
  17. نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والےخاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والےمرزارضا برق
  18. نہ کوئی ان کے سوا اور جان جاں دیکھاوہی وہی نظر آئے گا جہاں جہاں دیکھامرزارضا برق
  19. وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گےجب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گےمرزارضا برق
  20. وہ شاہ حسن جو بے مثل ہے حسینوں میںکبھی فقیر بھی تھا ان کے ہم نشینوں میںمرزارضا برق
  21. اثر زلف کا برملا ہو گیابلاؤں سے مل کر بلا ہو گیامرزارضا برق
  22. چاند سا چہرہ جو اس کا آشکارا ہو گیاتن پہ ہر قطرہ پسینہ کا شرارا ہو گیامرزارضا برق