Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہےوہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  2. اداسی کا سمندر دیکھ لینامری آنکھوں میں آ کر دیکھ لیناKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  3. اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہےشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  4. تم سے راہ و رسم بڑھا کر دیوانے کہلائیں کیوںجن گلیوں میں پتھر برسیں ان گلیوں میں جائیں کیوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  5. تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھاآنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہواKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  6. جاتے جاتے یہ نشانی دے گیاوہ مری آنکھوں میں پانی دے گیاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  7. رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھےزندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  8. رات کے دشت میں پھیلا ہوا سناٹا ہوںاپنے سائے سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  9. سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میںبہت جلنے لگا تھا جسم برفیلی چٹانوں میںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  10. کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیںاشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  11. گمشدہ تنہائیوں کی رازداں اچھی تو ہومیں یہاں اچھا نہیں ہوں تم وہاں اچھی تو ہوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  12. گھٹاؤں کی اداسی پی رہا ہوںمیں اک گہرا سمندر بن گیا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  13. مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کوکیوں چھوا میں نے تری یاد کے انگاروں کوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  14. ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہےکتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  15. یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگاتمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  16. یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعدہے پر سکون سمندر کچھ اس طرح دل کاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  17. ابھی سے ان کے لیے اتنی بے قرار نہ ہوکیا ہے مجھ کو بہت بے قرار چھیڑا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  18. اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوںنیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  19. بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  20. کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گیکب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  21. کسی کی یاد ستاتی ہے رات دن تم کوکسی کے پیار سے مجبور ہو گئی ہو تمKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  22. کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئیچائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  23. کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہےکوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکنKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  24. میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیںمیری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  25. ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہےکہ جیسے ٹاٹ کا میلا پھٹا ہوا پردہKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  26. خواب شب کی منڈیروں پہ بیٹھے ہوئےگھورتے ہیں مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  27. زندگی کے پیڑ سےایک پتا اور گر کرKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  28. سنا ہے کہ بوڑھی حویلی میں ہر شببھٹکتی ہے اک روح جس کے بدن پرKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)