Poetry
- آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہےوہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- اداسی کا سمندر دیکھ لینامری آنکھوں میں آ کر دیکھ لیناKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہےشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- تم سے راہ و رسم بڑھا کر دیوانے کہلائیں کیوںجن گلیوں میں پتھر برسیں ان گلیوں میں جائیں کیوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھاآنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہواKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- جاتے جاتے یہ نشانی دے گیاوہ مری آنکھوں میں پانی دے گیاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھےزندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- رات کے دشت میں پھیلا ہوا سناٹا ہوںاپنے سائے سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میںبہت جلنے لگا تھا جسم برفیلی چٹانوں میںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیںاشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- گمشدہ تنہائیوں کی رازداں اچھی تو ہومیں یہاں اچھا نہیں ہوں تم وہاں اچھی تو ہوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- گھٹاؤں کی اداسی پی رہا ہوںمیں اک گہرا سمندر بن گیا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کوکیوں چھوا میں نے تری یاد کے انگاروں کوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہےکتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگاتمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعدہے پر سکون سمندر کچھ اس طرح دل کاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- ابھی سے ان کے لیے اتنی بے قرار نہ ہوکیا ہے مجھ کو بہت بے قرار چھیڑا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوںنیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گیکب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کسی کی یاد ستاتی ہے رات دن تم کوکسی کے پیار سے مجبور ہو گئی ہو تمKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئیچائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہےکوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکنKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیںمیری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہےکہ جیسے ٹاٹ کا میلا پھٹا ہوا پردہKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- خواب شب کی منڈیروں پہ بیٹھے ہوئےگھورتے ہیں مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- زندگی کے پیڑ سےایک پتا اور گر کرKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- سنا ہے کہ بوڑھی حویلی میں ہر شببھٹکتی ہے اک روح جس کے بدن پرKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)