Poetry
- ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہےیہ بعد میں سہی کس بات سے مکرنا ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
- اپنا سارا بوجھ زمیں پر پھینک دیاتجھ کو خط لکھا اور لکھ کر پھینک دیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھخواہشیں لپٹی ہوں جیسے بند دروازوں کے ساتھIftikhar Naseem (1946–2011)
- اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھوتھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھوIftikhar Naseem (1946–2011)
- اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگاآسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگاIftikhar Naseem (1946–2011)
- بن گیا ہے جسم گزرے قافلوں کی گرد ساکتنا ویراں کر گیا مجھ کو مرا ہم درد ساIftikhar Naseem (1946–2011)
- پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہاجنگ تھی باہر گلی میں میں غزل کہتا رہاIftikhar Naseem (1946–2011)
- تیری آنکھوں کی چمک بس اور اک پل ہے ابھیدیکھ لے اس چاند کو کچھ دور بادل ہے ابھیIftikhar Naseem (1946–2011)
- جانے والوں کے لیے تو اور کیا لے جائے گادیکھ لے دنیا جہاں تک راستہ لے جائے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
- جلا وطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھےاداس نام کھلا در پکارتا ہے مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
- چاند پھر تاروں کی اجلی ریز گاری دے گیارات کو یہ بھیک کیسی خود بھکاری دے گیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھےجیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
- رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیںچھوڑ آؤ اس کو گھر تک راستا اچھا نہیںIftikhar Naseem (1946–2011)
- سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کرزبان لے گیا میری مجھے نظر دے کرIftikhar Naseem (1946–2011)
- سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیاتجھ سے ملے ہوئے مجھے یہ بھی برس گیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- کسی کے حق میں سہی فیصلہ ہوا تو ہےمرا نہیں وہ کسی شخص کا ہوا تو ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
- گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کرمحاذ زیست سے لوٹا ہوں سرخ رو ہو کرIftikhar Naseem (1946–2011)
- لگے گا اجنبی اب کیوں نہ شہر بھر مجھ کوبچا گیا ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کوIftikhar Naseem (1946–2011)
- مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گامرا سفر ہی مرے فاصلے بڑھا دے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
- مشعل امید تھامو رہ نما جیسا بھی ہےاب تو چلنا ہی پڑے گا راستا جیسا بھی ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
- نام بھی جس کا زباں پر تھا دعاؤں کی طرحوہ مجھے ملتا رہا نا آشناؤں کی طرحIftikhar Naseem (1946–2011)
- نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھناگئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھناIftikhar Naseem (1946–2011)
- نہ ہو کہ قرب ہی پھر ربط مرگ بن جائےوو اب ملے تو ذرا اس ث فاصلہ رکھناIftikhar Naseem (1946–2011)
- ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائےہے بہت لمبا سفر یوں تو نہ ڈرتا جائےIftikhar Naseem (1946–2011)
- ہے جستجو اگر اس کو ادھر بھی آئے گانکل پڑا ہے تو پھر میرے گھر بھی آئے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
- یوں ہے تری تلاش پہ اب تک یقیں مجھےجیسے تو مل ہی جائے گا پھر سے کہیں مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
- جولی کتنی بھولی تھیجب اس نے اظہار کیا تھاIftikhar Naseem (1946–2011)
- اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیںکوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیںIftikhar Naseem (1946–2011)
- ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تکیہ تیر خود ہی چلا جائے گا نشانے تکIftikhar Naseem (1946–2011)
- طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیںچل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیںIftikhar Naseem (1946–2011)
- کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میںسفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھاIftikhar Naseem (1946–2011)
- کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیںجل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھIftikhar Naseem (1946–2011)
- میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکرمجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تکIftikhar Naseem (1946–2011)
- یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیاپلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیاIftikhar Naseem (1946–2011)