Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس سے کیا چھپ سکے بنائی باتتاڑ جائے جو دل کی آئی باتHabeeb Moosavi
  2. بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کیبنا کحل البصر اللہ رے تقدیر پتھر کیHabeeb Moosavi
  3. بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھافراق میں لطف وصل پایا خزاں میں رنگ بہار دیکھاHabeeb Moosavi
  4. بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گاخیال زحمت نہ کیجئے گا ملال ایذا نہ کیجئے گاHabeeb Moosavi
  5. جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلےتفتیش صنم کو سوئے حرم ہم جان کے دل میں دیر چلےHabeeb Moosavi
  6. جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیساہزار باتیں ہوں ایک ہیں پھر بھلا یہ باہم ملال کیساHabeeb Moosavi
  7. چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑان کی چالیں ہیں قیامت کی بلا کے جوڑ توڑHabeeb Moosavi
  8. داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برسبعد مدت کے ہے پھر جوش بہار اب کے برسHabeeb Moosavi
  9. دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہےعکس داغ مہر کا اتنا اثر شیشہ میں ہےHabeeb Moosavi
  10. سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیںغافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیںHabeeb Moosavi
  11. شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہےصبح کو مہر کے پردے میں چمک جاتا ہےHabeeb Moosavi
  12. شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھاوہ پری وش کیا نہ تھا گویا کہ جو کچھ تھا نہ تھاHabeeb Moosavi
  13. شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیساگلے سے لگ جاؤ آؤ صاحب کہاں کا پردہ حجاب کیساHabeeb Moosavi
  14. عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوادل جو اک مدت سے اپنا تھا وہ بیگانہ ہواHabeeb Moosavi
  15. فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہےطناب جلاد کی طرح سے رگ گلو آج کل تنی ہےHabeeb Moosavi
  16. فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سےدل کھینچ لیا اس نے کمند نظری سےHabeeb Moosavi
  17. فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرےسکوں دشوار ہے کیوں کر طبیعت کوئی دم ٹھہرےHabeeb Moosavi
  18. قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظHabeeb Moosavi
  19. کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھروہ چوکھٹ موم کی چوکھٹ ہے یا میری جبیں پتھرHabeeb Moosavi
  20. کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائےکہ بلبل باتوں باتوں میں دم گفتار بن جائےHabeeb Moosavi
  21. گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹخزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹHabeeb Moosavi
  22. لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلےسیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلےHabeeb Moosavi
  23. مہر و الفت سے مآل تہذیبخاکساری ہے کمال تہذیبHabeeb Moosavi
  24. وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئےچلو دیکھیں تلوار چلتے ہوئےHabeeb Moosavi
  25. وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیںکہ قائل کی گویا زباں کھینچتے ہیںHabeeb Moosavi
  26. ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہےٹھہر اے اجل کہ وہ آئیں گے دم واپسیں کا قرار ہےHabeeb Moosavi
  27. ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخعارض ہے قمر خورشید جبیں شب زلف سحر ہے پرتو رخHabeeb Moosavi
  28. ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوستحافظ قرآں ہوا ہندوئے دوستHabeeb Moosavi
  29. ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہےزمیں پہ سایہ ہے اپنے قد کا کہ جادۂ منزل عدم ہےHabeeb Moosavi
  30. رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھیجان جہاں عشاق تمہارے شمع بھی ہیں پروانہ بھیHabeeb Moosavi
  31. اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہےدانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پرHabeeb Moosavi
  32. بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایاریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلےHabeeb Moosavi
  33. بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہےموذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئےHabeeb Moosavi
  34. پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئیچھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئیHabeeb Moosavi
  35. جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہدمیکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایاHabeeb Moosavi
  36. جب کہ وحدت ہے باعث کثرتایک ہے سب کا راستا واعظHabeeb Moosavi
  37. جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میںبتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھیHabeeb Moosavi
  38. خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑےوہ محتسب کی سواری فریب راہ رکیHabeeb Moosavi
  39. دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئےآج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کاHabeeb Moosavi
  40. دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزوخاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگHabeeb Moosavi
  41. رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میںHabeeb Moosavi
  42. شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرمغنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہےHabeeb Moosavi
  43. طالب بوسہ ہوں میں قاصد وہ ہیں خواہان جانیہ ذرا سی بات ہے ملتے ہی طے ہو جائے گیHabeeb Moosavi
  44. غربت بس اب طریق محبت کو قطع کرمدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئےHabeeb Moosavi
  45. قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیںناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئےHabeeb Moosavi
  46. کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسوانہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھیHabeeb Moosavi
  47. کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویشجب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویشHabeeb Moosavi
  48. کسی ہیں بھبتیاں مسجد میں ریش واعظ پرکہیں نہ میری طبیعت خدا گواہ رکیHabeeb Moosavi
  49. کیا ہوا ویراں کیا گر محتسب نے مے کدہجمع پھر کل شام تک ہر ایک شے ہو جائے گیHabeeb Moosavi
  50. لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سےہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پرHabeeb Moosavi