Poetry
- اس سے کیا چھپ سکے بنائی باتتاڑ جائے جو دل کی آئی باتHabeeb Moosavi
- بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کیبنا کحل البصر اللہ رے تقدیر پتھر کیHabeeb Moosavi
- بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھافراق میں لطف وصل پایا خزاں میں رنگ بہار دیکھاHabeeb Moosavi
- بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گاخیال زحمت نہ کیجئے گا ملال ایذا نہ کیجئے گاHabeeb Moosavi
- جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلےتفتیش صنم کو سوئے حرم ہم جان کے دل میں دیر چلےHabeeb Moosavi
- جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیساہزار باتیں ہوں ایک ہیں پھر بھلا یہ باہم ملال کیساHabeeb Moosavi
- چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑان کی چالیں ہیں قیامت کی بلا کے جوڑ توڑHabeeb Moosavi
- داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برسبعد مدت کے ہے پھر جوش بہار اب کے برسHabeeb Moosavi
- دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہےعکس داغ مہر کا اتنا اثر شیشہ میں ہےHabeeb Moosavi
- سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیںغافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیںHabeeb Moosavi
- شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہےصبح کو مہر کے پردے میں چمک جاتا ہےHabeeb Moosavi
- شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھاوہ پری وش کیا نہ تھا گویا کہ جو کچھ تھا نہ تھاHabeeb Moosavi
- شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیساگلے سے لگ جاؤ آؤ صاحب کہاں کا پردہ حجاب کیساHabeeb Moosavi
- عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوادل جو اک مدت سے اپنا تھا وہ بیگانہ ہواHabeeb Moosavi
- فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہےطناب جلاد کی طرح سے رگ گلو آج کل تنی ہےHabeeb Moosavi
- فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سےدل کھینچ لیا اس نے کمند نظری سےHabeeb Moosavi
- فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرےسکوں دشوار ہے کیوں کر طبیعت کوئی دم ٹھہرےHabeeb Moosavi
- قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظHabeeb Moosavi
- کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھروہ چوکھٹ موم کی چوکھٹ ہے یا میری جبیں پتھرHabeeb Moosavi
- کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائےکہ بلبل باتوں باتوں میں دم گفتار بن جائےHabeeb Moosavi
- گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹخزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹHabeeb Moosavi
- لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلےسیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلےHabeeb Moosavi
- مہر و الفت سے مآل تہذیبخاکساری ہے کمال تہذیبHabeeb Moosavi
- وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئےچلو دیکھیں تلوار چلتے ہوئےHabeeb Moosavi
- وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیںکہ قائل کی گویا زباں کھینچتے ہیںHabeeb Moosavi
- ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہےٹھہر اے اجل کہ وہ آئیں گے دم واپسیں کا قرار ہےHabeeb Moosavi
- ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخعارض ہے قمر خورشید جبیں شب زلف سحر ہے پرتو رخHabeeb Moosavi
- ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوستحافظ قرآں ہوا ہندوئے دوستHabeeb Moosavi
- ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہےزمیں پہ سایہ ہے اپنے قد کا کہ جادۂ منزل عدم ہےHabeeb Moosavi
- رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھیجان جہاں عشاق تمہارے شمع بھی ہیں پروانہ بھیHabeeb Moosavi
- اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہےدانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پرHabeeb Moosavi
- بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایاریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلےHabeeb Moosavi
- بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہےموذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئےHabeeb Moosavi
- پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئیچھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئیHabeeb Moosavi
- جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہدمیکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایاHabeeb Moosavi
- جب کہ وحدت ہے باعث کثرتایک ہے سب کا راستا واعظHabeeb Moosavi
- جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میںبتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھیHabeeb Moosavi
- خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑےوہ محتسب کی سواری فریب راہ رکیHabeeb Moosavi
- دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئےآج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کاHabeeb Moosavi
- دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزوخاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگHabeeb Moosavi
- رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میںHabeeb Moosavi
- شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرمغنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہےHabeeb Moosavi
- طالب بوسہ ہوں میں قاصد وہ ہیں خواہان جانیہ ذرا سی بات ہے ملتے ہی طے ہو جائے گیHabeeb Moosavi
- غربت بس اب طریق محبت کو قطع کرمدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئےHabeeb Moosavi
- قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیںناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئےHabeeb Moosavi
- کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسوانہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھیHabeeb Moosavi
- کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویشجب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویشHabeeb Moosavi
- کسی ہیں بھبتیاں مسجد میں ریش واعظ پرکہیں نہ میری طبیعت خدا گواہ رکیHabeeb Moosavi
- کیا ہوا ویراں کیا گر محتسب نے مے کدہجمع پھر کل شام تک ہر ایک شے ہو جائے گیHabeeb Moosavi
- لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سےہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پرHabeeb Moosavi