داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس
Habeeb Moosaviداغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس
بعد مدت کے ہے پھر جوش بہار اب کے برس
آبیاری سے تری اے تیغ یار اب کے برس
تختۂ گل ہے ہمارا جسم زار اب کے برس
تا بہ دامن ہے گریباں تار تار اب کے برس
ٹوٹتے ہیں تلووں میں چبھ چبھ کے خار اب کے برس
ہے یہ زور آمد فصل بہار اب کے برس
مست ہیں زاہد بھی مثل بادہ خوار اب کے برس
الفت ساقی نے لو زاہد کو بھی کھینچا ادھر
دور مے کا سبحہ پر ہوگا شمار اب کے برس
فصل گل میں بعد مردن بھی ہوا جوش جنوں
سنگ طفلاں سے ہو ترمیم مزار اب کے برس
شیشہ میں پنہاں ہے مے اور دل میں ذوق مے کشی
آتے ہی ساقی کے اے ابر بہار اب کے برس
ساقیا عینک چڑھے ہوں رنج و غم بالائے طاق
بادۂ دی سالہ کا شیشہ اتار اب کے برس
ظلم پر باندھی ہے پھر صیاد و گلچیں نے کمر
قید بلبل کی ہے گلشن میں پکار اب کے برس
آرزو ہے بعد مردن بھی رہوں سیراب مے
صرف جام و خم کریں میرا غبار اب کے برس
جوش خون بلبل شیدا کا پیدا ہو اثر
لے اگر فصد رگ گل نوک خار اب کے برس
جلتے ہیں دل بلبلوں کے آشیاں کی طرح سے
آتش گل کی ہے گلشن میں پکار اب کے برس
قسمت اپنی اپنی ہے اچھا مبارک ہو حبیبؔ
خار غم ہم کو تمہیں پہلوئے یار اب کے برس