جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے

Habeeb Moosavi

جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے

تفتیش صنم کو سوئے حرم ہم جان کے دل میں دیر چلے

گو بحر الم طوفانی ہے ہر موج عدوئے جانی ہے

اب پاؤں رکیں گے کیا اپنے اس دریا کو ہم پیر چلے

اب کام ہمارا یاں کیا ہے یہ آنا جانا بے جا ہے

جس وقت تمہاری صحبت میں ہم ہوں اور حکم غیر چلے

ہم سمجھے تھے یاں آئیں گے دن تھوڑا ہے رہ جائیں گے

پر دل کی حسرت دل میں رہی جب سوئے مکان غیر چلے

گو رنج جدائی ہے دل پر بے وقت ہے یہ دور ساغر

بیٹھے ہیں حبیبؔ احباب مگر اب تم بھی کہہ دو خیر چلے