عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا

Habeeb Moosavi

عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا

دل جو اک مدت سے اپنا تھا وہ بیگانہ ہوا

کہہ گیا جو جی میں آیا ایسا دیوانہ ہوا

بوند میں کم ظرف کا لبریز پیمانہ ہوا

سچی باتوں میں بھی ہوتا ہے قیامت کا اثر

تذکرہ میرا عجب دلچسپ افسانہ ہوا

بد نما سمجھا گیا پیوند استغنا و حرص

ننگ دلق فقر کشکول گدایانہ ہوا

رنگ خلت سے دل شیدا مرقع بن گیا

یہ خدا کا گھر بھی اس صورت سے بت خانہ ہوا

مخرب بنیاد آسائش ہے رفتار جہاں

بستیاں اجڑیں کبھی آباد ویرانہ ہوا

جان ہے مول اس کا اے عشق جوانی جان لے

نقد حسن یوسف ثانی کا بیعانہ ہوا

تیرہ بختی کی بلا سے یوں نکلنا چاہئے

جس طرح سلجھا کے زلفوں کو الگ شانہ ہوا

جذب دل یہ ہے اسے کہتے ہیں باطن کی کشش

ان کے پرتو سے منور میرا کاشانہ ہوا

کیا شکایت اس کی صاحب اپنا اپنا رنگ ہے

غیر ہیں ہم تم سے جب غیروں سے یارانہ ہوا

مل گئے دونوں میں تھی جلنے کی قوت ایک ساں

میل جنسیت سے جزو شمع پروانہ ہوا

اس کی شان عالم آرائی پہ کی جس دم نظر

گوشۂ عزلت مرا دربار شاہانہ ہوا

قالب خاکی میں ساقی تو نے پھونکی ہے یہ روح

قلقل مینا سے پیدا شور مستانہ ہوا

خوب ہی رنگ جوانی شیب نے کھویا حبیبؔ

محو دل سے بھی خیال روئے جانانہ ہوا