چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ

Habeeb Moosavi

چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ

ان کی چالیں ہیں قیامت کی بلا کے جوڑ توڑ

ہے نظر انداز کوئی کوئی منظور نظر

دیکھنا اس بت کی چشم فتنہ زا کے جوڑ توڑ

کج ادائی بات ہے جس کی لگاوٹ کھیل ہے

سیکھ لے اس فتنہ گر سے کوئی آ کے جوڑ توڑ

پا کے قابو کرتے ہیں اہل غرض کیا داؤں گھات

چلتے ہیں مطلب کی چالیں مدعا کے جوڑ توڑ

دوست بن کر کرتے ہیں نیکی کے پردے میں بدی

راج نیت یہ ہے دیکھو اغنیا کے جوڑ توڑ

سختیاں استاد ہیں انساں کی دنیا میں حبیبؔ

کرتے ہیں مغلوب کو غالب سکھا کے جوڑ توڑ