دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

Habeeb Moosavi

دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کا