ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ

Habeeb Moosavi

ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ

عارض ہے قمر خورشید جبیں شب زلف سحر ہے پرتو رخ

آنکھوں میں ہوا ہے گھر تیرا دل کہتا ہے رکھ ہر دم پردہ

ہو چشم تمنا کیوں کر وا عاشق کی نظر ہے پرتو رخ

جب مد نظر اغیار تھے واں تاریک تھا یاں آنکھوں میں جہاں

روشن ہے چراغ روح رواں کیا آج ادھر ہے پرتو رخ

کی فکر مگر باعث نہ کھلا اے لالہ رخ بے مہر و وفا

بتلا تو یہ دل کا درد ہے کیا گر داغ جگر ہے پرتو رخ

غش کوئی کسی کو ہے سکتا ہے نور خدا تیرا جلوہ

ہو دخل ترے گھر میں کس کا یاں حاجب در ہے پرتو رخ

اٹھ عاشق مضطر سجدے کر آئی ہے شب مقصد کی سحر

وہ دیکھتے ہیں غرفے سے ادھر اے خاک بسر ہے پرتو رخ

شہرہ ہے بہار عارض کا بلبل کی طرح عاشق ہیں فدا

ہے باغ جوانی روح افزا برگ گل تر ہے پرتو رخ

جس سے ہو آنسو خون جگر بن جائے عقیق و لعل و گہر

خورشید و قمر اور سیم و زر اے جان مگر ہے پرتو رخ

بیتاب حبیبؔ مضطر ہے حیران کبھی گہ ششدر ہے

پھرتا ہے گل خورشید صفت منہ اس کا جدھر ہے پرتو رخ