کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے
Habeeb Moosaviکوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے
کہ بلبل باتوں باتوں میں دم گفتار بن جائے
عیاں ہو جذب شوق ایسا حسیں آئیں زیارت کو
مری تربت کا میلہ مصر کا بازار بن جائے
مرے ہنسنے پہ وہ کہتے ہیں ایسا بھی نہ ہو بے خود
کہ کوئی آدمی سے قہقہہ دیوار بن جائے
تعجب کچھ نہیں ہے گر وفور سوز فرقت سے
مرا ہر موئے تن منقار موسیقار بن جائے
ٹہلتے گر چلے آئیں وہ داغوں کے تماشے کو
ابھی سرو چراغاں میرا جسم زار بن جائے
برہمن شیخ کو کر دے نگاہ ناز اس بت کی
گلوئے زہد میں تار نظر زنار بن جائے
اگر گھر سے بقصد سیر نکلے وہ کماں ابرو
تو بہر طائر دل ہر مژہ سو فار بن جائے
تبسم کر تماشا دیکھ کے وحشت کا پھر ظالم
مرا چاک گریباں زخم دامن دار بن جائے
یوں ہی ہنس ہنس کے تم عاشق کا رونا دیکھتے جاؤ
کہ ہر تار نظر اک موتیوں کا ہار بن جائے
بڑھاؤ منزلت تیغ ادا کی تند خوئی سے
مناسب ہے جو یہ شمشیر جوہر دار بن جائے
اگر آئینۂ دل صاف ہو حسن توجہ سے
ہر اک آنکھوں کا پردہ پردۂ اسرار بن جائے
یہی ہے خوں بہا چل کر ذرا کہہ دو اشارے سے
حبیبؔ خستہ کا مرقد پس دیوار بن جائے