بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی
Habeeb Moosaviبڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی
بنا کحل البصر اللہ رے تقدیر پتھر کی
اسیر زلف کیوں کر چھٹ سکیں گے قید وحشت سے
کہ ہے ہر جادۂ دشت جنوں زنجیر پتھر کی
یہ جلوہ ہے کنشت و دیر میں صانع کی قدرت کا
کہ دعوی خدائی کرتی ہے تصویر پتھر کی
تلاش رزق میں ہو آسیا کی طرح سرگرداں
اگر دانا ہے تو بھی سیکھ لے تدبیر پتھر کی
بتا سنگ جراحت آ کے زخم تیغ ابرو پر
ہوا اچھا ترے عاشق کو دی تعزیر پتھر کی
فسون چشم قاتل سے بنا ہوں سحر کا پتلا
جو چھو لے میری گردن کو تو ہو شمشیر پتھر کی
شب فرقت میں جو سوچے تھے کرتے وہ شکایت کیا
نظر کرتے ہی ان پر بن گئے تصویر پتھر کی
نہ نکلی ہے نہ نکلے گی جمی ہے دل میں جو ان کے
مٹانے سے بھی مٹتی ہے کہیں تحریر پتھر کی
سزائے عشق مژگان بتان سنگ دل پائی
ہوئی بارش ہر اک جانب سے ہم پر تیر پتھر کی
نہ فرق آیا حبیبؔ صابر و شاکر کی راحت میں
بنا دنیا میں قسمت کا لکھا تحریر پتھر کی