وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں
Habeeb Moosaviوہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں
کہ قائل کی گویا زباں کھینچتے ہیں
یہ تشہیر دیکھو سگ کوئے دلبر
ابھی تک مری ہڈیاں کھینچتے ہیں
کرے گر کوئی ذکر جا کر ہمارا
وہ تالو سے اس کی زباں کھینچتے ہیں
نہ صدمہ سے کیوں خشک ہو خون بلبل
گلوں کا عرق باغباں کھینچتے ہیں
بڑھی ہے سفر میں وطن کی محبت
مکینوں کو کیا کیا مکاں کھینچتے ہیں
کرے کون سودائے زلف مسلسل
ہمیں ہیں جو یہ بیڑیاں کھینچتے ہیں
پس مرگ معراج عاشق کی دیکھو
لحد کی زمیں آسماں کھینچتے ہیں
نشانہ بنائیں گے تیر نظر کا
محبت کے دل پر نشاں کھینچتے ہیں
ذرا دم تو لینے دے اے موت مجھ کو
ٹھہر کر نفس ناتواں کھینچتے ہیں
ضعیفی میں بھی دل میں ہے یاد ابرو
کبادہ ہیں خود اور کماں کھینچتے ہیں
مجھے دیکھ کر جب وہ منہ موڑتے ہیں
تو دل میں چھپا کر سناں کھینچتے ہیں
غضب ہے حسینوں کا طور تکلم
دلوں کو یہ جادو بیاں کھینچتے ہیں
بڑھا فکر میں رنگ زردی رخ سے
یہ عطر گل زعفراں کھینچتے ہیں
حبیبؔ اب زمیں آسماں سر پہ لیں گے
کہ نالے مرے بجلیاں کھینچتے ہیں