شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا
Habeeb Moosaviشراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا
گلے سے لگ جاؤ آؤ صاحب کہاں کا پردہ حجاب کیسا
اب آؤ بھی ہر طرف تکلف نقاب کیسی کہاں کا پردہ
جھکائے کیوں سر ہو شرم سے تم عیاں ہے رخ سے حجاب کیسا
بڑھا جو میں رکھ کے عذر مستی کہا یہ ہنس کر چڑھا کے تیوری
ہٹو ذرا ہوش میں رہو جی سنبھالو دل اضطراب کیسا
تمہیں مبارک ہو جو لیا ہے بھلا دو جو ہم کو دے دیا ہے
جو ہو گیا اس کا ذکر کیا ہے یہ دوستوں میں حساب کیسا
بہار کے دن ہیں کیا مزہ ہے شراب کا دور چل رہا ہے
لگا ہے سبزہ چمن کھلا ہے برس رہا ہے سحاب کیسا
میں رشک مجنوں ہوں دیکھ ادھر تو نہ لا صبا گلستاں کی خوشبو
غبار کی ہے دماغ کو خو کہاں کا عطر اور گلاب کیسا
وہ چشم کرتی ہے صید آہو ہیں اتنے تیر مژہ ترازو
پکار ہوگی یہ کل کو ہر سو کریہہ ہے مشک ناب کیسا
کبھی وہ مستی میں رنگ لائے کبھی کیا شاد مسکرائے
عجب طرح کے مزے اٹھائے وصال کی شب میں خواب کیسا
نہ میل کر ساقیا یوں ہی دے پسند مجھ کو نہیں کوئی شے
جگر پہ چرکا لگے پیاپے کہاں کا پانی گلاب کیسا
نہیں ہے دوزخ کا دل کو کچھ غم مری بھی سن ناصحا ذرا تھم
رحیم وہ پر گناہ ہیں ہم عذاب کیسا ثواب کیسا
جو روز ہے رخ تو زلف ہے شب ذقن ہے مانند چاہ نخشب
یہ حال ہے بچپنے میں یا رب تو ہوگا عہد شباب کیسا
یہ دور ہے چشم سرمہ گوں کا فلک ہے اک قطرہ بحر خوں کا
جہان میں رنگ ہے فسوں کا ہے مست ہر شیخ و شباب کیسا
حبیبؔ ہیں بند کام تیرے کہاں ہیں شاہ انام تیرے
نہیں پہنچتے امام تیرے ہے بندۂ بو تراب کیسا