ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست
Habeeb Moosaviہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست
حافظ قرآں ہوا ہندوئے دوست
ہم نہ ہوں پتھر ہو ہم پہلوئے دوست
آئینہ لوٹے بہار روئے دوست
پھر گئی جب نرگس جادوئے دوست
سب مسلماں ہو گئے ہندوئے دوست
بھا گئی ہے دل کو ایسی خوئے دوست
آتی ہے ہر گل سے مجھ کو بوئے دوست
ہے خیال عارض و گیسوئے دوست
گہ مسلمان ہوں کبھی ہندوئے دوست
سو بلائیں آ گئیں عشاق پر
جب کمر تک آ گئے گیسوئے دوست
ہڈیاں میری نہ کھانا اے ہما
دانت رکھتے ہیں سگان کوئے دوست
آگ بھڑکے کیوں نہ پہلو میں مرے
غیر ہیں واں آج ہم پہلوئے دوست
اصل یہ ہے نقل محراب حرم
سجدہ واجب ہے تہہ ابروئے دوست
تیغ ابرو پر کٹے لاکھوں گلے
بن گیا گنج شہیداں کوئے دوست
دل ہوا مفتوں نگاہ یار کا
شیر افگن ہیں مگر آہوئے دوست
بعد مردن قبر میں آٹھوں پہر
آئے گا مجھ کو خیال روئے دوست
پھر رہا ہے آج پتلی کی طرح
میری آنکھوں میں قد دل جوئے دوست
ہے خیال خال مشکیں رات دن
دل کو میرے جان لو مشکوئے دوست
اب وہی سر ہے کہ ٹکراتا ہوں میں
وصل میں یہ تھا سر زانوئے دوست
کیا کوئی آفت ابھی باقی ہے اور
لے چلا ہے دل مجھے پھر سوئے دوست
لے اڑی بے ساختہ دل کو مرے
آ گئی جس دم ہوائے کوئے دوست
رنگ الفت سے مٹا زنگ دوئی
ہو گئی ہے مجھ میں پیدا بوئے دوست
غیرت منصور ہوں میں اے حبیبؔ
ہر گھڑی ہوں صرف ہا و ہوئے دوست