اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات
Habeeb Moosaviاس سے کیا چھپ سکے بنائی بات
تاڑ جائے جو دل کی آئی بات
کہئے گزری ہے ایک ساں کس کی
کبھی بگڑی کبھی بن آئی بات
رہے دل میں تو ہے وہ بات اپنی
منہ سے نکلی ہوئی پرائی بات
میں سمجھتا ہوں یہ نئی چالیں
کبھی چھپتی نہیں سکھائی بات
کہہ دیا اپنے دل کو خود بے رحم
چھین لی میرے منہ کی آئی بات
رکھ لیا عاشقوں نے نام وفا
گئی جاں پر نہ جانے پائی بات
رنگ بگڑا ہے ان کی صحبت کا
اب نہیں ہے وہ ابتدائی بات
مجھ سے بے وجہ ہوتے ہو بد ظن
کر کے باور سنی سنائی بات
کیا ہو ان کا مزاج داں کوئی
روٹھنا کھیل ہے لڑائی بات
غیر کا ذکر گر نہ تھا صاحب
میرے آتے ہی کیوں اڑائی بات
دل میں رکھتا ہے خوب سن کے حبیبؔ
چاہے اپنی ہو یا پرائی بات