Poetry
- اسی لئے ہمیں احساس بے وفائی نہیںہمارے پاس ہیں کنگن کوئی کلائی نہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لےتشنگی میری اگر جھیل سے باتیں کر لےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیںہم وہ بھنورے ہیں جو احساس کا رس پیتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہیوں ہی تھوڑی ہوا مشہور ہمارا قصہFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگاکھلی جو دھوپ تو پانی کا رنگ اڑنے لگاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھاوہ آدمی جو مرا درد سر بنا ہوا تھاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- جتن سے رکھ ہمیں جب تک کہ با حیات ہیں ہمترے بدن کی ریاست کے کاغذات ہیں ہمFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- جو فن سے فکر کی تدبیر گفتگو کرے گیتو گونگی بہری بھی تصویر گفتگو کرے گیFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوںمیں تری یادوں کا احرام پہن لیتا ہوںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہےدر ساقی پہ ہر اک آنے والا تھک چکا ہےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- کسی کا سایا نہ آنچل ہمارے ساتھ ہواتمہارے بعد بہت چھل ہمارے ساتھ ہواFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھواہمارے ہاتھوں نے جب پھول سے بدن کو چھواFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیاآج تک میری سمجھ میں نہیں آئی دنیاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجودفکر دیمک کی طرح چاٹ گئی میرا وجودFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیںکیسے دیں لفظوں کو ترتیب یہ فن جانتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نہ جانے کس کے سہارے بدن سے لگ گیا ہےتمہارا روگ ہمارے بدن سے لگ گیا ہےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نیا ادب نئے آداب کون دیکھے گاہمارا حلقۂ احباب کون دیکھے گاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نیا سخن نئے طرز سخن میں رکھ دیا ہےجو بے وطن تھے انہیں بھی وطن میں رکھ دیا ہےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- وادیٔ جسم میں بکھراؤ نہیں چاہتے ہیںہم ترے ہاتھوں کوئی گھاؤ نہیں چاہتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تکجس طرح رسی سے جاتا ہے گھڑا پانی تکFaiz Khalilabadi (b. 1980)