Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں سے لگا لو مری اندازۂ وحشتتم کھول نہیں پاؤ گے دروازۂ وحشتDanish Hayat (b. 1994)
  2. اس کا لہجہ دیکھ رہا تھا بارش ہونے والی تھیبس اک میں ہی خشک پڑا تھا باقی تو ہریالی تھیDanish Hayat (b. 1994)
  3. ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھوہ مجھے روز پکارے نئے انداز کے ساتھDanish Hayat (b. 1994)
  4. ترا چہرا اگر اترا ہوا ہےیہاں پر کچھ ہے جو اوچھا ہوا ہےDanish Hayat (b. 1994)
  5. خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گینقش سمیٹے جائیں گے تصویر بنائی جائے گیDanish Hayat (b. 1994)
  6. دیے کی آخری خواہش کا احترام کروتمام شہر جلانے کا اہتمام کروDanish Hayat (b. 1994)
  7. سوال کرتی ہوئی رات کے علاوہ ہےکہ مجھ میں کوئی مری ذات کے علاوہ ہےDanish Hayat (b. 1994)
  8. عجیب نقش بناتے ہوا گزرتی ہےکہ خد و خال مٹاتے ہوا گزرتی ہےDanish Hayat (b. 1994)
  9. عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گےہم ترے بعد محبت سے نکل آئیں گےDanish Hayat (b. 1994)
  10. فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیںذرا ٹھہرو دعائیں آ رہی ہیںDanish Hayat (b. 1994)
  11. کچھ ایسے مجھے سایۂ دیوار پکارےجیسے کسی بیمار کو بیمار پکارےDanish Hayat (b. 1994)
  12. کس موڑ پر لے آئے ہیں یادوں کے سلسلےاب جو بھی چاہے ہم کو وہ جس سمت لے اڑےDanish Hayat (b. 1994)
  13. کہیں تو ہوتا نہیں ہوں ذرا برابر بھیکہیں کہیں پہ تو میں بے حساب ہوتا ہوںDanish Hayat (b. 1994)
  14. کیسے سمجھاؤں گا ان کو کہ پری آئے گیمیری باتوں پہ جنہیں صرف ہنسی آئے گیDanish Hayat (b. 1994)
  15. گلی سے گزروں تو اس پر بھی دھیان پڑتا ہےوہ جس کا گھر مرے رستے میں آن پڑتا ہےDanish Hayat (b. 1994)
  16. وحشت صدائے دشت ہے وحشت قبائے دشتمجھ پر کسی کی یاد نے کیا کیا بنائے دشتDanish Hayat (b. 1994)
  17. وہ حسن آنکھ سے دیکھا ہوا یقین مجھےاگرچہ روز بتاتے تھے زائرین مجھےDanish Hayat (b. 1994)