Poetry
- آنکھوں سے لگا لو مری اندازۂ وحشتتم کھول نہیں پاؤ گے دروازۂ وحشتDanish Hayat (b. 1994)
- اس کا لہجہ دیکھ رہا تھا بارش ہونے والی تھیبس اک میں ہی خشک پڑا تھا باقی تو ہریالی تھیDanish Hayat (b. 1994)
- ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھوہ مجھے روز پکارے نئے انداز کے ساتھDanish Hayat (b. 1994)
- ترا چہرا اگر اترا ہوا ہےیہاں پر کچھ ہے جو اوچھا ہوا ہےDanish Hayat (b. 1994)
- خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گینقش سمیٹے جائیں گے تصویر بنائی جائے گیDanish Hayat (b. 1994)
- دیے کی آخری خواہش کا احترام کروتمام شہر جلانے کا اہتمام کروDanish Hayat (b. 1994)
- سوال کرتی ہوئی رات کے علاوہ ہےکہ مجھ میں کوئی مری ذات کے علاوہ ہےDanish Hayat (b. 1994)
- عجیب نقش بناتے ہوا گزرتی ہےکہ خد و خال مٹاتے ہوا گزرتی ہےDanish Hayat (b. 1994)
- عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گےہم ترے بعد محبت سے نکل آئیں گےDanish Hayat (b. 1994)
- فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیںذرا ٹھہرو دعائیں آ رہی ہیںDanish Hayat (b. 1994)
- کچھ ایسے مجھے سایۂ دیوار پکارےجیسے کسی بیمار کو بیمار پکارےDanish Hayat (b. 1994)
- کس موڑ پر لے آئے ہیں یادوں کے سلسلےاب جو بھی چاہے ہم کو وہ جس سمت لے اڑےDanish Hayat (b. 1994)
- کہیں تو ہوتا نہیں ہوں ذرا برابر بھیکہیں کہیں پہ تو میں بے حساب ہوتا ہوںDanish Hayat (b. 1994)
- کیسے سمجھاؤں گا ان کو کہ پری آئے گیمیری باتوں پہ جنہیں صرف ہنسی آئے گیDanish Hayat (b. 1994)
- گلی سے گزروں تو اس پر بھی دھیان پڑتا ہےوہ جس کا گھر مرے رستے میں آن پڑتا ہےDanish Hayat (b. 1994)
- وحشت صدائے دشت ہے وحشت قبائے دشتمجھ پر کسی کی یاد نے کیا کیا بنائے دشتDanish Hayat (b. 1994)
- وہ حسن آنکھ سے دیکھا ہوا یقین مجھےاگرچہ روز بتاتے تھے زائرین مجھےDanish Hayat (b. 1994)