Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھےکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھےبخش ناسخ
  2. اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگاور ہی لایا فراق یار رنگبخش ناسخ
  3. اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہواکھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوابخش ناسخ
  4. تو نے مہجور کر دیا ہم کوسخت رنجور کر دیا ہم کوبخش ناسخ
  5. جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیںنام تیرا ہی لیا کرتے ہیںبخش ناسخ
  6. جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوںبیگانہ خدائی سے ہوا ہوںبخش ناسخ
  7. جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارابجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارابخش ناسخ
  8. چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہوصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہوبخش ناسخ
  9. چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیںداغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیںبخش ناسخ
  10. دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیںآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیںبخش ناسخ
  11. رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھاغیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھابخش ناسخ
  12. رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیںجس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیںبخش ناسخ
  13. زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میںجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میںبخش ناسخ
  14. سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیںکٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیںبخش ناسخ
  15. سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیںہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیںبخش ناسخ
  16. سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کیسن اس کو تو اے جان زبانی مرے دل کیبخش ناسخ
  17. صاف قاصد کو واں جواب ملامیرے خط کا یہی جواب ملابخش ناسخ
  18. صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوںیہ زندان دغا ہے اور میں ہوںبخش ناسخ
  19. قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیںسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیںبخش ناسخ
  20. کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتارتلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتاربخش ناسخ
  21. کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیںکون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیںبخش ناسخ
  22. گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیںپر خوشی ہے کوئی رقیب نہیںبخش ناسخ
  23. لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میںنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میںبخش ناسخ
  24. مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپبخش ناسخ
  25. مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیںمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیںبخش ناسخ
  26. مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتیکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتیبخش ناسخ
  27. مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کاطلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کابخش ناسخ
  28. مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہونہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہوبخش ناسخ
  29. مے سے روشن رہے ایاغ اپناگل نہ ہو ساقیا چراغ اپنابخش ناسخ
  30. وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوںوہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوںبخش ناسخ
  31. وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہماراکہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارابخش ناسخ
  32. ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذبخش ناسخ
  33. ہماری کیف سزاوار احتساب نہیںخیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیںبخش ناسخ
  34. ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفیدبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفیدبخش ناسخ
  35. ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہبخش ناسخ
  36. ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کامشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کابخش ناسخ
  37. ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کاروئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کابخش ناسخ
  38. ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کیہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کیبخش ناسخ
  39. یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیںہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیںبخش ناسخ
  40. یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جداجس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدابخش ناسخ
  41. یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میںکہ جیسے روح نہاں ہے بدن کے پردے میںبخش ناسخ
  42. یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاںیاں پاس ہے نہ خاطر اغیار توڑیئےبخش ناسخ