Poetry
- آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھےکو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھےبخش ناسخ
- اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگاور ہی لایا فراق یار رنگبخش ناسخ
- اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہواکھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوابخش ناسخ
- تو نے مہجور کر دیا ہم کوسخت رنجور کر دیا ہم کوبخش ناسخ
- جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیںنام تیرا ہی لیا کرتے ہیںبخش ناسخ
- جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوںبیگانہ خدائی سے ہوا ہوںبخش ناسخ
- جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارابجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارابخش ناسخ
- چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہوصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہوبخش ناسخ
- چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیںداغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیںبخش ناسخ
- دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیںآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیںبخش ناسخ
- رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھاغیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھابخش ناسخ
- رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیںجس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیںبخش ناسخ
- زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میںجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میںبخش ناسخ
- سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیںکٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیںبخش ناسخ
- سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیںہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیںبخش ناسخ
- سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کیسن اس کو تو اے جان زبانی مرے دل کیبخش ناسخ
- صاف قاصد کو واں جواب ملامیرے خط کا یہی جواب ملابخش ناسخ
- صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوںیہ زندان دغا ہے اور میں ہوںبخش ناسخ
- قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیںسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیںبخش ناسخ
- کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتارتلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتاربخش ناسخ
- کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیںکون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیںبخش ناسخ
- گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیںپر خوشی ہے کوئی رقیب نہیںبخش ناسخ
- لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میںنام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میںبخش ناسخ
- مجھ سے اب صاف بھی ہو جا یوں ہی یار آپ سے آپجس طرح ہے تری خاطر میں غبار آپ سے آپبخش ناسخ
- مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیںمے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیںبخش ناسخ
- مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتیکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتیبخش ناسخ
- مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کاطلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کابخش ناسخ
- مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہونہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہوبخش ناسخ
- مے سے روشن رہے ایاغ اپناگل نہ ہو ساقیا چراغ اپنابخش ناسخ
- وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوںوہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوںبخش ناسخ
- وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہماراکہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارابخش ناسخ
- ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذبخش ناسخ
- ہماری کیف سزاوار احتساب نہیںخیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیںبخش ناسخ
- ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفیدبلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفیدبخش ناسخ
- ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہبخش ناسخ
- ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کامشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کابخش ناسخ
- ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کاروئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کابخش ناسخ
- ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کیہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کیبخش ناسخ
- یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیںہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیںبخش ناسخ
- یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جداجس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدابخش ناسخ
- یہ جسم زار ہے یوں پیرہن کے پردے میںکہ جیسے روح نہاں ہے بدن کے پردے میںبخش ناسخ
- یاروں کی ہم سے دل شکنی ہو سکے کہاںیاں پاس ہے نہ خاطر اغیار توڑیئےبخش ناسخ