Poetry
- آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگااس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگاBaharunnisa Bahar
- اک شخص پر وقار تھا جانے کدھر گیاآنکھوں کا جو خمار تھا جانے کدھر گیاBaharunnisa Bahar
- امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنایوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرناBaharunnisa Bahar
- بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیںہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیںBaharunnisa Bahar
- بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گیبہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گیBaharunnisa Bahar
- تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیںفاصلے جو درمیاں ہے فاصلہ لگتا نہیںBaharunnisa Bahar
- جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرحلوگ ہم کو دیکھتے ہیں اب تماشے کی طرحBaharunnisa Bahar
- لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہےہر طرف بادل ہیں کالے اور برپا شور ہےBaharunnisa Bahar
- منزل مہر و وفا کی رہنمائی ہو گئیجب ملی تم سے تو خود سے آشنائی ہو گئیBaharunnisa Bahar
- نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پریاد کی کچھ سیپیاں ہیں اب سہارا ریت پرBaharunnisa Bahar
- ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گےجو ابر اشک آ برسا کہاں اس کو چھپاؤ گےBaharunnisa Bahar
- اکیلے منظروں سےاور ان پیاسی رتوں سےBaharunnisa Bahar
- بتاؤ جان جاں میرےکہ گھر کب لوٹ آؤ گےBaharunnisa Bahar
- جو اکثر سوچتی ہوں میںبتا کیا تو بھی وہ سوچےBaharunnisa Bahar
- جینے کے سامان عجبپیار کے ہیں ارمان عجبBaharunnisa Bahar
- حرف نگر میں جھانکوں جبسوچ دھمال کے منظر ہیںBaharunnisa Bahar
- سن اے مرے سخنورتو سچ کا سمندرBaharunnisa Bahar
- میں قیدی تتلی ہوں تیریسب رنگ بہار کے ہیں تجھ سےBaharunnisa Bahar
- ہر سال نو کو مل کےیہ رسم ہے بنائیBaharunnisa Bahar
- ہو یخ بستہ موسمسلگتا ہوا منBaharunnisa Bahar
- اشک کے ابر رواں میں ڈھونڈھتی ہوں میں تجھےآس کی ان تتلیوں کو بھی ٹھکانا چاہئےBaharunnisa Bahar
- گھائل وجود سوچ کی بیساکھیاں لئےملنے چلا ہے گزرے ہوئے ماہ و سال سےBaharunnisa Bahar
- منجمد ہو زندگی میں جب کبھی شہر خیالپھر چراغ دل سے اس کو جگمگانا چاہئےBaharunnisa Bahar
- ویران زندگی کے یہ لمحے عجیب ہیںبزم طرب میں دھوم ہے فرقت دھمال سےBaharunnisa Bahar
- ہوا ہے ریت ہے دشت وفا ہےرتوں کو آتا جاتا دیکھتی ہوںBaharunnisa Bahar