Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج بے آپ ہو گئے ہم بھیآپ کو پا کے کھو گئے ہم بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  2. آنکھ سے دل میں آنے والادل سے نہیں اب جانے والاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  3. آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  4. ازل سے نقش دل ہے ناز جانانہ محمد کاکیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  5. اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دےجائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  6. اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  7. اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  8. بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھےبس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  9. بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دوجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دوArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  10. پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئیآنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  11. پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والےجھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  12. پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑاخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  13. پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوںمیں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  14. تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جاپٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  15. تسکین دل کا یہ کیا قرینہروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  16. تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کروا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کرArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  17. تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میںگزر کے آپ سے اپنی ہی جستجو ہوں میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  18. تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سےچھپایا ہو گناہ عشق تو پوچھو گواہوں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  19. جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھاہوش جس کا نام ہے وہ بھی جنون خام تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  20. جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیںدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  21. جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرناوہیں ہے گنہ پہ ڈٹ کے گناہ کرناArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  22. حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کیشمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  23. خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریںوہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  24. دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیاآسان کام آپ نے مشکل بنا دیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  25. دل مکدر ہے آئینہ رو کانہ ملا رنگ سے پتا بو کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  26. دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  27. دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہےسانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  28. دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھاان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  29. عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  30. کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہےچتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  31. کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سےمجھے سوء ظن نہیں ہے کہ دعا کروں خدا سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  32. کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہےجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  33. کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانےجو ہو بے شعور کیا جانے یہ ہیں زندگی کے افسانےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  34. کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتاموج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  35. گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیابہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  36. گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیںدیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  37. مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیاچور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  38. مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاںہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  39. مرے جوش غم کی ہے عجب کہانیکبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  40. میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئےشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  41. نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والےہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  42. نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوںہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  43. نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگاجو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  44. وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سےکہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  45. وہ سر بام کب نہیں آتاجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  46. وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیاجواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  47. ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہواور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہوArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  48. ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  49. ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیےکہ وقف کرنا ہے دل ناز جاں ستاں کے لیےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  50. ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میںبے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)