Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرےہم صفیران چمن را کہ رساند خبرے از من نوحہ گرےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  2. نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئےدے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  3. ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہماے بحر حسن آ ادھر آ آشنا ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  4. اس کا حال کمر کھلا ہمدمہم کو ملک عدم ملا ہمدمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  5. بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہےشرار سنگ موسیٰ کے لیے برق تجلیٰ ہےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  6. پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیاشب کو ہمیں خورشید درخشاں نظر آیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  7. چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہمبیٹھیں گے جنوں میں تو نہ بیکار کبھی ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  8. ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکےواعظ احساں کر جو تجھ سے ہو سکےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  9. کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوسنہیں اپنا بس نہیں اپنا بس نہیں اپنا نہیں اپنا بسHatim Ali Mehr (1815–1879)
  10. کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہماک بت ناآشنا سے دل لگا بیٹھے ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  11. کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گےتو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  12. گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھااپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  13. وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہواکوہ کن سے دوستی مجنوں سے یارانہ ہواHatim Ali Mehr (1815–1879)
  14. وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیاوہ خار ہوں کہ پہلوے گل کو دبا لیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
  15. الا یا شاہ خوباں کیجیے شادہوئے جاتے ہیں عاشق غم سے بربادMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  16. اے دل زار لکھو جانب جاناں کاغذحال کا لکھتے ہیں فقرا سوئے سلطاں کاغذMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  17. بس تمنا ہے عشق مولیٰ میںکہ مروں میں یہی تمنا میںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  18. تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچعشق کے ہوں میں دل افگاروں کے بیچMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  19. دودمان درد کی شادی ہیں ہمخاندان غم کی آبادی ہیں ہمMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  20. شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگپھر جاں سے بھڑک جسم کے میداں میں لگی آگMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  21. عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کارہتا ہے اس کو نشہ شراب فرنگ کاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  22. نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوںگنہ گار و خطا کار و رضائے حق پہ راضی ہوںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  23. نے امیروں میں نے وزیروں میںعشق کے ہم تو ہیں فقیروں میںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  24. آج کل جو کثرت شوریدگان عشق ہےروز ہوتے جاتے ہیں حداد نوکر سیکڑوںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  25. آج مسجد میں نظر آتا تو ہے میکش مگرمطلب اس کا بیچنا ہے شیخ کی دستار کاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  26. اپنے بھی عشق کو زوال نہ ہونہ تمہارے جمال کو ہے کمالMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  27. اگر سمجھو نماز زاہد مغرور یاروہزاروں بار بہتر تر ہماری بے نمازی ہےMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  28. پوجتا ہوں کبھی بت کو کبھی پڑھتا ہوں نمازمیرا مذہب کوئی ہندو نہ مسلماں سمجھاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  29. تخم ریحاں کھلا طبیب مجھےیعنی ہوں میں مریض حضرت خالMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  30. جاں بلب دم بھر کا ہوں مہمان یارایک بوسہ میری مہمانی کروMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  31. چھوٹتا ہے ایک تو پھنستے ہیں آ کر اس میں دوآج کل ہے گرم تر کیا خوب بازار قفسMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  32. خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہاکیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوزMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  33. دیتا ہے روز روز دلاسے نئے نئےکس طرح اعتبار ہو حافظؔ کے فال پرMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  34. دیکھ کر ہاتھ میں تسبیح گلے میں زنارمجھ سے بیزار ہوئے کافر و دیں دار جداMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  35. رخسار کا دے شرط نہیں بوسۂ لب سےجو جی میں ترے آئے سو دے یار مگر دےMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  36. عمر دو چار روز مہماں ہےخدمت مہماں کروں نہ کروںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  37. ہاتھ کا بازو کا گردن کا کمر کا کس کےہم کو تعویذوں میں یہی چار ہی بھائے تعویذMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  38. ہندو بچہ نے چھین کے دل مجھ سے یوں کہاہندوستاں بھی کشور ترکاں سے کم نہیںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  39. پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نماآیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  40. رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتایہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  41. یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہےوگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہےGeorge Puech Shor (1823–1894)
  42. پیری میں خاک زندگانی کا مزہدانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہGeorge Puech Shor (1823–1894)
  43. جب تک ہے شباب سازگار دولتہر قصر میں سو نقش و نگار دولتGeorge Puech Shor (1823–1894)
  44. دولت نے معاونت جو کی تو کیا کیطالع نے مساعدت جو کی تو کیا کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  45. کچھ تیرا ثمر نہ اے جوانی پایاسرما زدہ باغ زندگانی پایاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  46. کچھ کام نہیں گبرو مسلماں سے ہمیںہے کفر سے کچھ بحث نہ ایماں سے ہمیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  47. کعبہ میں تو صدق اور صفا کو پایابت خانے میں ناز اور ادا کو پایاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  48. کیا وصف لکھوں زلف سیہ کی لٹ کاہر پیچ میں اک دل کو لیا ہے لٹکاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  49. گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھیاور دیر میں جا کے خود نمائی دیکھیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  50. اسی خیال میں دن رات میں تڑپتا ہوںتمہیں قرار بھی دو گے جو بے قرار کیاGeorge Puech Shor (1823–1894)