Poetry
Poet
Meter
- اک خیال و خواب ہے اے شورؔ یہ بزم جہاںیار اور جام و سبو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
- اک نظر نے کیا ہے کام تمامآرزو بھی تو تھی یہی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- تمہارے عشق میں کیا کیا نہ اختیار کیاکبھی فلک کا کبھی غیر کا وقار کیاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- جان پر اپنی ہائے کیوں بنتیبات جو مانتے کبھی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھاس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہتلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- دل میں اپنے آرزو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںدو جہاں کی جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
- دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہےپاس ہے اپنے آرسی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- شوق نے کی جو رہبری دل کیمنزل عشق طے ہوئی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائےجو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- ہے تلاش دو جہاں لیکن خبر اپنی کسےجیتے جی تک جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
- اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیںکیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیساناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیساTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کیکس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کیTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کورات بھر آج پکارا ہے مرا دل مجھ کوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیںبہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پراس قافلہ کو پیاس نے مارا ہے چاہ پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آبادتم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آبادTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیاموتیوں کی آبرو پر آج پانی پھر گیاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیںمرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھےسب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہےکچھ کلیجہ میں درد رہتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھاس کی زنجیر طلائی سے لڑی میری آنکھTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھےباغبان چمن محفل جاناں ہم تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہارروتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- بڑھتے بڑھتے آتش رخسار لو دینے لگیرفتہ رفتہ کان کے موتی شرارے ہو گئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- بہت مضر دل عاشق کو آہ ہوتی ہےاسی ہوا سے یہ کشتی تباہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- تمام عمر کمی کی کبھی نہ پانی نےعجب کریم کی رحمت ہے دیدۂ تر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- جلوں گا میں کہ دل اس بت کا غیر پر آیااڑے گی آگ کہ پتھر گرا ہے پتھر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- چراغ داغ میں دن سے جلائے بیٹھا ہوںسنا ہے جو شب فرقت سیاہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- صاف دیکھا ہے کہ غنچوں نے لہو تھوکا ہےموسم گل میں الٰہی کوئی دلگیر نہ ہوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- گیا شباب پر اتنا رہا تعلق عشقدل و جگر میں تپک گاہ گاہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنےتم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- مجھ سے لاکھوں خاک کے پتلے بنا سکتا ہے تومیں کہاں سے ایک تیرا سا خدا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- مجھے ہے فکر خط بھیجا ہے جب سے اس گل تر کوہزاروں بلبلیں روکیں گی رسی میں کبوتر کوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- منتظر تیرے ہیں چشم خوں فشاں کھولے ہوئےبیٹھے ہیں دل بیچنے والے دکاں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھےہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- میں باغ میں ہوں طالب دیدار کسی کاگل پر ہے نظر دھیان میں رخسار کسی کاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- نجد سے جانب لیلیٰ جو ہوا آتی ہےدل مجنوں کے دھڑکنے کی صدا آتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- وہ انتہا کے ہیں نازک میں سخت جاں ہوں کمالعجب طرح کی مصیبت پڑی ہے خنجر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- وہ کھڑے کہتے ہیں میری لاش پرہم تو سنتے تھے کہ نیند آتی نہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کیسب ہے قدرت داور دوار کیBahram ji (1828–1895)
- جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہےکوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہےBahram ji (1828–1895)
- دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیںپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیںBahram ji (1828–1895)
- دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرحBahram ji (1828–1895)
- رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خطBahram ji (1828–1895)
- غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیںآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیںBahram ji (1828–1895)
- کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبثعشق ہے اس گلشن و گل زار کا فعل عبثBahram ji (1828–1895)
- کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہےجس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہےBahram ji (1828–1895)
- کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بندBahram ji (1828–1895)