Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اک خیال و خواب ہے اے شورؔ یہ بزم جہاںیار اور جام و سبو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  2. اک نظر نے کیا ہے کام تمامآرزو بھی تو تھی یہی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  3. تمہارے عشق میں کیا کیا نہ اختیار کیاکبھی فلک کا کبھی غیر کا وقار کیاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  4. جان پر اپنی ہائے کیوں بنتیبات جو مانتے کبھی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  5. جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھاس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  6. جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہتلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  7. دل میں اپنے آرزو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںدو جہاں کی جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  8. دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہےپاس ہے اپنے آرسی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  9. شوق نے کی جو رہبری دل کیمنزل عشق طے ہوئی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  10. عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائےجو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  11. ہے تلاش دو جہاں لیکن خبر اپنی کسےجیتے جی تک جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  12. اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیںکیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  13. انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیساناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیساTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  14. باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کیکس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کیTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  15. تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کورات بھر آج پکارا ہے مرا دل مجھ کوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  16. جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیںبہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  17. دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پراس قافلہ کو پیاس نے مارا ہے چاہ پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  18. دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آبادتم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آبادTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  19. سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیاموتیوں کی آبرو پر آج پانی پھر گیاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  20. کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیںمرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  21. محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھےسب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  22. منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہےکچھ کلیجہ میں درد رہتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  23. نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھاس کی زنجیر طلائی سے لڑی میری آنکھTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  24. یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھےباغبان چمن محفل جاناں ہم تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  25. آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہارروتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  26. بڑھتے بڑھتے آتش رخسار لو دینے لگیرفتہ رفتہ کان کے موتی شرارے ہو گئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  27. بہت مضر دل عاشق کو آہ ہوتی ہےاسی ہوا سے یہ کشتی تباہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  28. تمام عمر کمی کی کبھی نہ پانی نےعجب کریم کی رحمت ہے دیدۂ تر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  29. جلوں گا میں کہ دل اس بت کا غیر پر آیااڑے گی آگ کہ پتھر گرا ہے پتھر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  30. چراغ داغ میں دن سے جلائے بیٹھا ہوںسنا ہے جو شب فرقت سیاہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  31. صاف دیکھا ہے کہ غنچوں نے لہو تھوکا ہےموسم گل میں الٰہی کوئی دلگیر نہ ہوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  32. گیا شباب پر اتنا رہا تعلق عشقدل و جگر میں تپک گاہ گاہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  33. مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنےتم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  34. مجھ سے لاکھوں خاک کے پتلے بنا سکتا ہے تومیں کہاں سے ایک تیرا سا خدا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  35. مجھے ہے فکر خط بھیجا ہے جب سے اس گل تر کوہزاروں بلبلیں روکیں گی رسی میں کبوتر کوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  36. منتظر تیرے ہیں چشم خوں فشاں کھولے ہوئےبیٹھے ہیں دل بیچنے والے دکاں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  37. موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھےہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  38. میں باغ میں ہوں طالب دیدار کسی کاگل پر ہے نظر دھیان میں رخسار کسی کاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  39. نجد سے جانب لیلیٰ جو ہوا آتی ہےدل مجنوں کے دھڑکنے کی صدا آتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  40. وہ انتہا کے ہیں نازک میں سخت جاں ہوں کمالعجب طرح کی مصیبت پڑی ہے خنجر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  41. وہ کھڑے کہتے ہیں میری لاش پرہم تو سنتے تھے کہ نیند آتی نہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  42. بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کیسب ہے قدرت داور دوار کیBahram ji (1828–1895)
  43. جو ہے یاں آسائش رنج و محن میں مست ہےکوچۂ جاناں میں ہم ہیں قیس بن میں مست ہےBahram ji (1828–1895)
  44. دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیںپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیںBahram ji (1828–1895)
  45. دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرحBahram ji (1828–1895)
  46. رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خطBahram ji (1828–1895)
  47. غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیںآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیںBahram ji (1828–1895)
  48. کب تصور یار گل رخسار کا فعل عبثعشق ہے اس گلشن و گل زار کا فعل عبثBahram ji (1828–1895)
  49. کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہےجس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہےBahram ji (1828–1895)
  50. کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بندBahram ji (1828–1895)