Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والاکوئی باقی نہ رہا اگلے زمانے والاShad Azimabadi (1846–1927)
  2. یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہےپئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  3. یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہمٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہمShad Azimabadi (1846–1927)
  4. یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کاکیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کاShad Azimabadi (1846–1927)
  5. جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچاہنگام رحیل و پا تراب آ پہنچاShad Azimabadi (1846–1927)
  6. ساقی کے کرم سے فیض یہ جاری ہےیا پیر خر کی غم خواری ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  7. شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےShad Azimabadi (1846–1927)
  8. کیا مفت زاہدوں نے الزام لیاتسبیح کے دانوں سے عبث کام لیاShad Azimabadi (1846–1927)
  9. ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرادم بھرتے ہیں ارباب بلاغت میراShad Azimabadi (1846–1927)
  10. اخلاق سے جہل علم و فن سے غافلمضموں جو دیکھیں تو مثل خط باطلShad Azimabadi (1846–1927)
  11. ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گےخواہان نمود تجھ کو کیا دیکھیں گےShad Azimabadi (1846–1927)
  12. اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیاگھبرا کے عدم کی سمت منہ موڑ دیاShad Azimabadi (1846–1927)
  13. بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہےہر حال میں پنہاں و نہاں ایک رہےShad Azimabadi (1846–1927)
  14. بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوںتحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوںShad Azimabadi (1846–1927)
  15. تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہےنغموں کی صداقت اس سے خود پیدا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  16. تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیںاپنے تھے جو کل آج وہ بیگانے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
  17. جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاںپھر خلق کہاں وقار الطاف کہاںShad Azimabadi (1846–1927)
  18. جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نےہر شے پہ کیا ہے غور کیا کیا میں نےShad Azimabadi (1846–1927)
  19. چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیںافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
  20. حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرااحباب و عزیز و اقربا سے بھی پھراShad Azimabadi (1846–1927)
  21. دل مورد ایزا و بلا ہوتا ہےپاداش عمل میں سب بجا ہوتا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  22. روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوںسمجھو نہ مجھے غیر تمہارا میں ہوںShad Azimabadi (1846–1927)
  23. سو طرح کا میرے لیے سامان کیاپورا اک عمر کا ارمان کیاShad Azimabadi (1846–1927)
  24. کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میںدنیا کہتی کہ دین فراموش ہوں میںShad Azimabadi (1846–1927)
  25. کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرادنیا میں بتا کون ہے ثانی تیراShad Azimabadi (1846–1927)
  26. مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیںقدسی طبق نور میں دبے جاتے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
  27. ہر حال میں آبروئے فن لازم ہےتقلید فصیحان وطن لازم ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  28. ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑےمشغول فغاں و آہ کر کے چھوڑےShad Azimabadi (1846–1927)
  29. گہری نیند سے سونے والووقت کو اپنے کھونے والوShad Azimabadi (1846–1927)
  30. اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھتیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیاShad Azimabadi (1846–1927)
  31. بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہوتو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیےShad Azimabadi (1846–1927)
  32. پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکاگزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیںShad Azimabadi (1846–1927)
  33. ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہیہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہیShad Azimabadi (1846–1927)
  34. تسکین تو ہوتی تھی تسکین نہ ہونے ثرونا بھی نہیں آتا ہر وقت کے رونے سےShad Azimabadi (1846–1927)
  35. جیتے جی ہم تو غم فردا کی دھن میں مر گئےکچھ وہی اچھے ہیں جو واقف نہیں انجام سےShad Azimabadi (1846–1927)
  36. جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھیمحسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کرShad Azimabadi (1846–1927)
  37. چمن میں جا کے ہم نے غور سے اوراق گل دیکھےتمہارے حسن کی شرحیں لکھی ہیں ان رسالوں میںShad Azimabadi (1846–1927)
  38. خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہےتڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  39. دیکھنے والے کو تیرے دیکھنے آتے ہیں لوگجو کشش تجھ میں تھی اب وو تیرے دیوانہ میں ہےShad Azimabadi (1846–1927)
  40. سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنینہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومShad Azimabadi (1846–1927)
  41. شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانادانتوں میں دبا کر ہونٹ اپنا کچھ سوچ کے اس کا رہ جاناShad Azimabadi (1846–1927)
  42. طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلومShad Azimabadi (1846–1927)
  43. عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھادیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھاShad Azimabadi (1846–1927)
  44. غنچوں کے مسکرانے پہ کہتے ہیں ہنس کے پھولاپنا کرو خیال ہماری تو کٹ گئیShad Azimabadi (1846–1927)
  45. کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئیشام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئیShad Azimabadi (1846–1927)
  46. کہتے ہیں اہل ہوش جب افسانہ آپ کاہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کاShad Azimabadi (1846–1927)
  47. ہزار شکر میں تیرے سوا کسی کا نہیںہزار حیف کہ اب تک ہوا نہ تو میراShad Azimabadi (1846–1927)