Poetry
- ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والاکوئی باقی نہ رہا اگلے زمانے والاShad Azimabadi (1846–1927)
- یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہےپئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہمٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہمShad Azimabadi (1846–1927)
- یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کاکیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کاShad Azimabadi (1846–1927)
- جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچاہنگام رحیل و پا تراب آ پہنچاShad Azimabadi (1846–1927)
- ساقی کے کرم سے فیض یہ جاری ہےیا پیر خر کی غم خواری ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےShad Azimabadi (1846–1927)
- کیا مفت زاہدوں نے الزام لیاتسبیح کے دانوں سے عبث کام لیاShad Azimabadi (1846–1927)
- ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرادم بھرتے ہیں ارباب بلاغت میراShad Azimabadi (1846–1927)
- اخلاق سے جہل علم و فن سے غافلمضموں جو دیکھیں تو مثل خط باطلShad Azimabadi (1846–1927)
- ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گےخواہان نمود تجھ کو کیا دیکھیں گےShad Azimabadi (1846–1927)
- اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیاگھبرا کے عدم کی سمت منہ موڑ دیاShad Azimabadi (1846–1927)
- بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہےہر حال میں پنہاں و نہاں ایک رہےShad Azimabadi (1846–1927)
- بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوںتحصیل کمال کر کے پچھتاتا ہوںShad Azimabadi (1846–1927)
- تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہےنغموں کی صداقت اس سے خود پیدا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیںاپنے تھے جو کل آج وہ بیگانے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
- جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاںپھر خلق کہاں وقار الطاف کہاںShad Azimabadi (1846–1927)
- جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نےہر شے پہ کیا ہے غور کیا کیا میں نےShad Azimabadi (1846–1927)
- چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیںافلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
- حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرااحباب و عزیز و اقربا سے بھی پھراShad Azimabadi (1846–1927)
- دل مورد ایزا و بلا ہوتا ہےپاداش عمل میں سب بجا ہوتا ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوںسمجھو نہ مجھے غیر تمہارا میں ہوںShad Azimabadi (1846–1927)
- سو طرح کا میرے لیے سامان کیاپورا اک عمر کا ارمان کیاShad Azimabadi (1846–1927)
- کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میںدنیا کہتی کہ دین فراموش ہوں میںShad Azimabadi (1846–1927)
- کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرادنیا میں بتا کون ہے ثانی تیراShad Azimabadi (1846–1927)
- مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیںقدسی طبق نور میں دبے جاتے ہیںShad Azimabadi (1846–1927)
- ہر حال میں آبروئے فن لازم ہےتقلید فصیحان وطن لازم ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑےمشغول فغاں و آہ کر کے چھوڑےShad Azimabadi (1846–1927)
- گہری نیند سے سونے والووقت کو اپنے کھونے والوShad Azimabadi (1846–1927)
- اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھتیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیاShad Azimabadi (1846–1927)
- بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہوتو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیےShad Azimabadi (1846–1927)
- پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکاگزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیںShad Azimabadi (1846–1927)
- ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہیہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہیShad Azimabadi (1846–1927)
- تسکین تو ہوتی تھی تسکین نہ ہونے ثرونا بھی نہیں آتا ہر وقت کے رونے سےShad Azimabadi (1846–1927)
- جیتے جی ہم تو غم فردا کی دھن میں مر گئےکچھ وہی اچھے ہیں جو واقف نہیں انجام سےShad Azimabadi (1846–1927)
- جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھیمحسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کرShad Azimabadi (1846–1927)
- چمن میں جا کے ہم نے غور سے اوراق گل دیکھےتمہارے حسن کی شرحیں لکھی ہیں ان رسالوں میںShad Azimabadi (1846–1927)
- خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہےتڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- دیکھنے والے کو تیرے دیکھنے آتے ہیں لوگجو کشش تجھ میں تھی اب وو تیرے دیوانہ میں ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنینہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومShad Azimabadi (1846–1927)
- شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانادانتوں میں دبا کر ہونٹ اپنا کچھ سوچ کے اس کا رہ جاناShad Azimabadi (1846–1927)
- طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلومShad Azimabadi (1846–1927)
- عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھادیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھاShad Azimabadi (1846–1927)
- غنچوں کے مسکرانے پہ کہتے ہیں ہنس کے پھولاپنا کرو خیال ہماری تو کٹ گئیShad Azimabadi (1846–1927)
- کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئیشام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئیShad Azimabadi (1846–1927)
- کہتے ہیں اہل ہوش جب افسانہ آپ کاہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کاShad Azimabadi (1846–1927)
- ہزار شکر میں تیرے سوا کسی کا نہیںہزار حیف کہ اب تک ہوا نہ تو میراShad Azimabadi (1846–1927)