شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے
Shad Azimabadi (1846–1927)شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے
فیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلے
پیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرف
پیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے
شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے
فیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلے
پیاسے آتے ہیں آپ دریا کی طرف
پیاسوں کی تلاش کو نہ دریا نکلے