گہری نیند سے سونے والو
Shad Azimabadi (1846–1927)گہری نیند سے سونے والو
وقت کو اپنے کھونے والو
رات کٹی کچھ تم کو خبر ہے
چونکو چونکو وقت سحر ہے
چاند کی رنگت ہو گئی میلی
دیکھو چمک سورج کی پھیلی
چلتے ہیں جھونکے سرد ہوا کے
جھوم رہے ہیں پھول اترا کے
کوئلیں کوکیں کو کو کو کو
یاہو بولے یاہو یاہو
نیند سے چونکیں پنکھ پکھیرو
بول رہے ہیں شاخوں پہ ہر سو
بھولے ہوئے ہیں اس دم سب دھن
لال پکارے صم بکم
کھل گئیں کلیاں باغ کی ساری
چار طرف ہیں نہریں جاری
گو کہ ابھی تک کچھ ہے اندھیرا
چڑیاں لینے آئیں بسیرا
گائیں دوب کو چرنے آئیں
بھینسوں نے اپنی شکلیں دکھائیں
رک گیا اس دم بہتا دریا
دور تلک شفاف ہے صحرا
اٹھو اٹھو احمد اٹھو
منہ کو دھو کر کپڑے پہن لو
سیر کرو میداں کی نکل کر
پھول کو دیکھو باغ میں چل کر
وقت کو کھونا ظلم ہے پیارے
سن یہ نصیحت دوست ہمارے