طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ

Shad Azimabadi (1846–1927)

طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ

ہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلوم