جیتے جی ہم تو غم فردا کی دھن میں مر گئے

Shad Azimabadi (1846–1927)

جیتے جی ہم تو غم فردا کی دھن میں مر گئے

کچھ وہی اچھے ہیں جو واقف نہیں انجام سے