Poetry
- کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پرJigar Moradabadi (1890–1960)
- کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتیبجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتیJigar Moradabadi (1890–1960)
- کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشنلاکھ بلائیں ایک نشیمنJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہےدل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا کشش حسن بے پناہ میں ہےجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیاجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت آپ اپنی ترجماں ہےیہی خود چشم و دل لفظ و بیاں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت صلح بھی پیکار بھی ہےیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیںکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوںمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوںJigar Moradabadi (1890–1960)
- نہ دیکھا رخ بے نقاب محبتمحبت ہے شاید حجاب محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
- نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئےزندگی سے روٹھ جانا چاہیئےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھاخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرناان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرناJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیںزبان حال رکھتے ہیں زبان دل سمجھتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائےجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائےJigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- یادJigar Moradabadi (1890–1960)
- نرگس مستانہJigar Moradabadi (1890–1960)
- احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہےیوں بھی کسی نے اکثر دیوانہ کر دیا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- قحط بنگالJigar Moradabadi (1890–1960)
- پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کرپھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کرJigar Moradabadi (1890–1960)
- شکست توبہJigar Moradabadi (1890–1960)
- کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھیہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھیJigar Moradabadi (1890–1960)
- تصویر و تصورJigar Moradabadi (1890–1960)
- گاندھیؔ جی کی یاد میں!Jigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکےکہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکےJigar Moradabadi (1890–1960)
- آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیےگلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیےJigar Moradabadi (1890–1960)
- آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہےجب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محالانتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
- اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیاکیا اسیری ہے کیا رہائی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہےمسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسویہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- درد و غم دل کی طبیعت بن گئےاب یہاں آرام ہی آرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہوبندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہوJigar Moradabadi (1890–1960)
- دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیںکتنی ظالم ہے تیری انگڑائیJigar Moradabadi (1890–1960)