Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  2. کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پرJigar Moradabadi (1890–1960)
  3. کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  4. کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  5. کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتیبجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتیJigar Moradabadi (1890–1960)
  6. کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشنلاکھ بلائیں ایک نشیمنJigar Moradabadi (1890–1960)
  7. کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہےدل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  8. کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچےJigar Moradabadi (1890–1960)
  9. کیا کشش حسن بے پناہ میں ہےجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  10. لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیاجس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  11. محبت آپ اپنی ترجماں ہےیہی خود چشم و دل لفظ و بیاں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  12. محبت صلح بھی پیکار بھی ہےیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  13. محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیںکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  14. نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوںمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوںJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. نہ دیکھا رخ بے نقاب محبتمحبت ہے شاید حجاب محبتJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئےزندگی سے روٹھ جانا چاہیئےJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھاخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرناان کا بھی کام کرنا اپنا بھی کام کرناJigar Moradabadi (1890–1960)
  23. ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  24. یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  25. یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیںزبان حال رکھتے ہیں زبان دل سمجھتے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  26. یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  27. یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائےجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائےJigar Moradabadi (1890–1960)
  28. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  29. یادJigar Moradabadi (1890–1960)
  30. نرگس مستانہJigar Moradabadi (1890–1960)
  31. احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہےیوں بھی کسی نے اکثر دیوانہ کر دیا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  32. قحط بنگالJigar Moradabadi (1890–1960)
  33. پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کرپھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کرJigar Moradabadi (1890–1960)
  34. شکست توبہJigar Moradabadi (1890–1960)
  35. کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  36. وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھیہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھیJigar Moradabadi (1890–1960)
  37. تصویر و تصورJigar Moradabadi (1890–1960)
  38. گاندھیؔ جی کی یاد میں!Jigar Moradabadi (1890–1960)
  39. یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکےکہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکےJigar Moradabadi (1890–1960)
  40. آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیےگلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیےJigar Moradabadi (1890–1960)
  41. آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہےجب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  42. ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محالانتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  43. اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
  44. اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیاکیا اسیری ہے کیا رہائی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  45. ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہےمسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  46. ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  47. حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسویہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  48. درد و غم دل کی طبیعت بن گئےاب یہاں آرام ہی آرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  49. دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہوبندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہوJigar Moradabadi (1890–1960)
  50. دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیںکتنی ظالم ہے تیری انگڑائیJigar Moradabadi (1890–1960)