دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو

Jigar Moradabadi (1890–1960)

دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو

بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو